واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں بڑی اور نمایاں کمی کی خوشخبری سنا دی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جہاز رانی سے متعلق بحران کو جلد حل کر لیا جائے گا جس کے بعد ایندھن سستا ہو جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ صورتحال کو معمول پر لانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا اور وہ اس مسئلے کے حل کے لیے پوری طرح سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جلد اپنی سابقہ سطح سے بھی نیچے آ جائیں گی۔
امریکا میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے صدر ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی پر سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ آئندہ انتخابات سے قبل پیٹرول اور ڈیزل کی بلند قیمتیں عوامی حلقوں میں ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں، جس پر امریکی انتظامیہ اب انتہائی سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے بحفاظت گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد بتانے سے گریز کیا تاہم دعویٰ کیا کہ بڑی تعداد میں جہاز بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ بحرانی کیفیت کو جلد از جلد ختم کرکے عالمی تجارت کے راستوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف خلیج فارس تک محدود نہیں رہیں گے۔ ایسی صورتحال میں پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس سے عالمی توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ باب المندب جیسے اہم آبی راستے بھی متاثر ہوئے تو عالمی منڈیوں کو تیل اور گیس کی فراہمی میں بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے عالمی طاقتوں کی جانب سے جاری سفارتی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
