اسلام آباد: آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باعث آئندہ وفاقی بجٹ میں سولر توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں پر دی گئی ٹیکس مراعات کو ختم یا محدود کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جس سے عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
حکومتی ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ٹیکس چھوٹ کو کم کرنے کے مطالبے پر ڈٹا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں سولر پینلز پر موجودہ ایک فیصد سیلز ٹیکس کو 18 فیصد تک بڑھانے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے جو بڑا اضافہ ہوگا۔
شمسی توانائی کے آلات کے علاوہ سولر بیٹریز اور انورٹرز پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں یکم جولائی سے ملک بھر میں شمسی توانائی کے آلات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں بھی بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ سی کے ڈی کٹس پر حاصل سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر دی گئی رعایتی ٹیکس مدت میں توسیع کا امکان بھی نہ ہونے کے برابر نظر آ رہا ہے۔
حکومت مقامی طور پر اسمبل ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی رعایت کو فی الحال جون کے آخر تک برقرار رکھے گی، تاہم درآمدی الیکٹرک بسوں پر بھی سیلز ٹیکس کی شرح کو ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
دوسری جانب قبائلی اضلاع کے رہائشیوں کے لیے کچھ ریلیف برقرار رہے گا جہاں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس کا استثنیٰ 30 جون 2026 تک جاری رہے گا۔ یہ فیصلہ ملکی معاشی استحکام اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے نئے بجٹ پروگرام کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان ان ٹیکس تجاویز پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔ حتمی فیصلے کا اعلان وفاقی بجٹ کی منظوری کے وقت کیا جائے گا جس سے شعبہ توانائی اور آٹوموبائل سیکٹر میں قیمتوں کا تعین ہوگا اور عوام پر اثرات مرتب ہوں گے۔
