English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان کا برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے آزاد کشمیر سے متعلق بیانات پر اظہارِ تشویش

القمر

اسلام آباد: پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر سے متعلق بعض برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور بیرونِ ملک مقیم افراد کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر ضروری، غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ نے ان ریمارکس پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق برطانیہ میں مقیم بعض کشمیری نژاد افراد اور چند برطانوی ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر دیے گئے بیانات زمینی حقائق اور تاریخی پس منظر سے لاعلمی پر مبنی ہیں، ایسے بیانات نہ صرف گمراہ کن ہیں بلکہ خطے کی حساس صورتحال کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دینے کی کوشش ہیں۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ ان افراد کو پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے اور اپنی توجہ اپنے ملک میں مثبت کردار ادا کرنے پر مرکوز رکھنی چاہیے، بعض برطانوی ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور اعتراضات بھی غیر ضروری نوعیت کے ہیں اور یہ موقف کی سطحی معلومات کی عکاسی کرتے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ جو افراد نوآبادیاتی سوچ کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکے، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان ایک خودمختار اور جمہوری ریاست ہے۔ پاکستان بین الاقوامی اصولوں کے تحت دیگر ممالک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے اور اسی اصول کا احترام دیگر ممالک سے بھی کرتا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتیں شہریوں کو پرامن اجتماع، اظہارِ رائے کی آزادی اور جمہوری عمل میں شرکت کے بنیادی حقوق فراہم کرتی ہیں، کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ترجمان نے برطانوی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرے جو کالعدم تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں پاکستان و آزاد کشمیر کے آئینی اور قانونی نظام کا احترام کرنے کی ہدایت دے۔

واضح رہے کہ برطانوی پارلیمنٹرینز کی جانب سے آزاد کشمیر سے متعلق حالیہ ریمارکس میں انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور خطے میں صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، جنہیں پاکستان نے مسترد کر دیا ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے