English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آبنائے ہرمز کشیدگی: یورپی یونین کی ایران پر نئی پابندیاں

القمر

برسلز: یورپی یونین نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں مبینہ رکاوٹوں کے الزام پر ایران کی متعدد اہم شخصیات اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اثاثے منجمد کرنے اور ویزا پابندیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے رکن ممالک کی منظوری کے بعد سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ یہ اقدام ان افراد اور اداروں کے خلاف کیا گیا ہے جو آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی میں رکاوٹ یا خطرہ پیدا کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔

فیصلے کے تحت ایران کے ایسے افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ خلیج کے اہم بحری راستے میں تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت میں مداخلت کرتے ہیں۔ پابندیوں کی فہرست میں پاسدارانِ انقلاب کی بحری شاخ کے ترجمان محمد اکبرزادہ اور ایران کی آئل ایکسپورٹرز یونین کے نمائندے حمید حسینی بھی شامل ہیں، جنہیں بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔

یورپی یونین کے مطابق یہ اقدام اس نئے “فریڈم آف نیویگیشن سینکشنز رجیم” کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد عالمی بحری راستوں میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرنا ہے۔ اس نظام کے تحت اثاثے منجمد کرنے اور سفری پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

کایا کالاس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، جہاں مختلف سطحوں پر کشیدگی اور جنگ بندی کے مراحل موجود ہیں، آبنائے ہرمز میں ڈرون سرگرمیوں اور مبینہ خطرات کے باعث بین الاقوامی بحری ٹریفک کو خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ سمندری راستوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا رکاوٹ ناقابل قبول ہے اور عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے ان نئی پابندیوں پر تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تہران ماضی میں ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور مؤقف اختیار کرتا ہے کہ وہ خلیج میں بحری سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثرات ڈال سکتی ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے