ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

گاندھی کے نظریات اے آئی کے دور میں بھی اہم ہیں: ایل جی منوج سنہا

سری نگر/گاندھی جینتی کے موقع پر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے سچائی، عدم تشدد، خود انحصاری، وقار اور سماجی ذمہ داری کے اصول تیزی سے بدلتی دنیا میں آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تکنیکی ترقی کو انسانی اقدار اور انسانی فیصلوں کی رہنمائی میں آگے بڑھنا چاہیے۔ایس کے آئی سی سی سری نگر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایل جی سنہا نے کہا کہ 2 اکتوبر محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ یہ موقع ہے کہ شہری مہاتما گاندھی کی زندگی، ناانصافی کے خلاف ان کے طریقۂ مزاحمت، خود انحصاری پر ان کے زور اور باوقار زندگی گزارنے کے عزم پر غور کریں۔
انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی ایک قیمتی ورثہ چھوڑ کر گئے ہیں اور ان کا فلسفہ آج کے معاشرے اور پوری دنیا کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔گاندھی جی کے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ وہ راجا ہریش چندر کی کہانی سے گہری متاثر ہوئے تھے اور انہوں نے سچائی پر قائم رہنے کا عزم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ انہوں نے مشکل حالات میں بھی سچائی کا دامن نہیں چھوڑا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے گاندھی کے تصورِ تعلیم کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہ تعلیم کو ایسا سفر سمجھتے تھے جس کے ذریعے انسان زندگی کی گہرائی اور مقصد کو سمجھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق گاندھی نے سچائی کو اس سفر کا ایک لازمی حصہ قرار دیا تھا۔
بھارت کی آزادی کی جدوجہد، بالخصوص 1942 کی ’کوئٹ انڈیا موومنٹ‘ میں گاندھی کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ ان کے ’بھارت چھوڑو‘ کے نعرے نے ملک بھر میں بچوں، نوجوانوں، خواتین اور بزرگوں سمیت لوگوں کو متحرک کیا۔انہوں نے کہا کہ گاندھی کی دکھائی ہوئی راہ آج بھی بھارت اور جموں و کشمیر کے لیے اہم ہے اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ ان کے نظریات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔
موجودہ تکنیکی دور کا ذکر کرتے ہوئے ایل جی سنہا نے کہا کہ ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مواصلات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے روزمرہ زندگی کو تبدیل کر دیا ہے اور بے مثال مواقع پیدا کیے ہیں۔ ان کے مطابق اب دور دراز دیہات میں رہنے والے لوگ بھی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جبکہ طلبہ دنیا بھر کے اساتذہ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔تاہم انہوں نے زور دیا کہ تکنیکی ترقی جامع ہونی چاہیے اور اس کی رہنمائی انسانی فیصلوں سے ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’ٹیکنالوجی صرف ہمارا ذریعہ ہے اور فیصلہ کرنے کا اختیار انسانوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔‘‘انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشینوں کو انسانی فیصلوں کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔سنہا نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے لوگوں کو پہلے سے کہیں زیادہ جوڑ دیا ہے، تاہم یہ تنہائی میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے، جبکہ آج دستیاب معلومات کے بے پناہ ذخیرے کے باعث سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس معلومات کا سمندر ہے، لیکن سچ تلاش کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔‘‘
ایل جی نے خبردار کیا کہ جھوٹے پیغامات چند سیکنڈ میں پوری دنیا میں پھیل سکتے ہیں، جبکہ سچ پہنچانے میں کہیں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گاندھی نے سوشل میڈیا، اسمارٹ فونز یا مصنوعی ذہانت کے بغیر بھی سچ اور جھوٹ کے درمیان تعلق کو سمجھا تھا اور اپنی زندگی کو سچ کی تلاش کا ایک تجربہ قرار دیا۔
سنہا نے کہا کہ گاندھی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ سچ صرف ان کے پاس ہے، بلکہ سچ کو دوسروں پر مسلط کرنے کے بجائے اسے سمجھنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ ’’سچ ایک عظیم عمل ہے‘‘اور اسے اختیار کرنے کے لیے کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تحقیق، غور سے سننے اور سمجھنے کی عادت ضروری ہے۔ایل جی نے کہا کہ یہ اصول بالخصوص نوجوانوں کے لیے اہم ہیں اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ موبائل فون، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو ذمہ داری اور اخلاقی اصولوں کے تحت استعمال کریں۔انہوں نے گاندھی کے سماجی اتحاد کے پیغام کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا تنوع تاریخی طور پر اس کی طاقت رہا ہے۔ مختلف رسم و رواج، روایات اور عبادت کے طریقے ایک ساتھ موجود رہ سکتے ہیں اور لوگ ایک معاشرے کی حیثیت سے متحد ہو کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔
گاندھی کے معاشرے کے کمزور ترین فرد پر زور کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ فیصلے کرتے وقت حاشیے پر زندگی گزارنے والے لوگوں کے تجربات اور مفادات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات کے لیے انصاف، مختلف آرا کا احترام اور سماجی ذمہ داری کے چھوٹے چھوٹے اقدامات معاشرتی اتحاد کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بھارت کے بارے میں گاندھی کے اعتماد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ گاندھی کو یقین تھا کہ بھارت میں بلند عزائم رکھنے والے لوگوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔خود انحصاری کے حوالے سے سنہا نے کہا کہ گاندھی کا تصور صرف بڑی صنعتوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں دیہات، مقامی پیداوار، مزدور، چھوٹی صنعتیں اور کسان بھی شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ مقامی پیداوار کو مضبوط بنا کر اور مقامی صنعت کاروں و پیداوار کنندگان کو عالمی منڈیوں سے جوڑ کر خود انحصار بھارت کی تعمیر میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے مواقع پیدا کرے۔
گاندھی کے ’ٹرسٹ شپ‘ اور عوامی ذمہ داری کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے سنہا نے کہا کہ مہاتما گاندھی حقوق کے ساتھ فرائض پر بھی زور دیتے تھے اور لوگوں کو معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔انہوں نے بچوں اور نوجوانوں میں کردار سازی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کردار معاشرے کی سب سے پائیدار بنیادوں میں سے ایک ہے۔
گاندھی کے خود احتسابی کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے ایل جی نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ مسلسل دوسروں کے اعمال پر سوال اٹھانے کے بجائے اپنے اندر جھانکیں۔انہوں نے لوگوں سے سوال کیا کہ آیا وہ سچ بول رہے ہیں یا افواہیں پھیلا رہے ہیں، بامعنی گفتگو کر رہے ہیں یا محض باتیں کر رہے ہیں، اور محنت کر رہے ہیں یا ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نوجوان طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ آج کی نسل کو ایسے مواقع اور تکنیکی وسائل دستیاب ہیں جن کا پچھلی نسلیں تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں، جن میں اسمارٹ فونز، مصنوعی ذہانت اور معلومات کا وسیع ذخیرہ شامل ہے۔انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ان وسائل کو احترام، اخلاقیات اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں تاکہ ٹیکنالوجی انسانیت، معاشرے، جموں و کشمیر اور ملک کی خدمت کر سکے۔
2047 تک ترقی یافتہ بھارت کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ ملک کی ترقی کا پیمانہ صرف بلند عمارتوں کی تعداد یا معیشت کے حجم تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ترقی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جانا چاہیے کہ کتنے غریب اور پسماندہ افراد کو آگے لایا گیا اور ان کے لیے کتنے مواقع پیدا کیے گئے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں