ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

انڈیا بلاک کی عرضی پر سماعت کے بعد عدالت ِ عظمیٰ نے گیانیش کمار اور دونوں الیکشن کمشنرز کو نوٹس کیا جاری

نئی دہلی/چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران کی گئی کارروائی اور الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار کو لے کر جمعرات کو سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ دوسری طرف عدالت نے مظاہرہ کے دوران پولیس کارروائی، میٹرو اسٹیشن پر پابندی اور انٹرنٹ سروس بند کیے جانے سے منسلک حکم عدولی کی عرضی پر بھی سماعت کی۔
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور انڈیا بلاک کے دیگر لیڈران کی عرضی پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر اور دونوں الیکشن کمشنرز کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی راہل گاندھی کو حامیوں کے ساتھ سپریم کورٹ آنے پر وضاحت بھی طلب کی ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے جنتر منتر کو احتجاجی مظاہروں کی جگہ کے طور پر ڈینوٹیفائی کرنے کی عرضی پر مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے ایس آئی آر سے متعلق اپوزیشن پارٹیوں کی مشترکہ عرضی پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا اور کہا کہ عرضی پر فیصلہ سنانے سے قبل عرضی دہندگان کو اپنے رویہ پر وضاحت پیش کرنی ہوگی۔ اپوزیشن پارٹی لیڈران کی اس مشترکہ عرضی میں مجموعی طور پر 13 عرضی دہندگان ہیں، لیکن سپریم کورٹ نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ کس عرضی دہندہ کے رویہ پر اسے اعتراض ہے۔
اس درمیان احتجاجی مظاہروں سے منسلک معاملوں میں کئی وکلا کے مطالبہ پر سپریم کورٹ نے سبھی لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ احتجاجی مظاہرہ سے جڑے واقعات کے سبھی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھیں اور انھیں عدالت میں پیش کریں۔ دہلی میں 10 اکتوبر کو ہوئے مظاہرہ کے دوران عائد کی گئی پابندیوں سے متعلق مرکزی حکومت، دہلی پولیس اور دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کی طرف سے عدالت میں جوابات بھی داخل کر دیے گئے ہیں۔ افسران کے خلاف داخل حکم عدولی کی عرضیوں میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی پہلی کی ہدایات کے باوجود مظاہرہ کے دوران لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی لگائی گئی، مظاہرین کو حراست میں لیا گیا اور میٹرو خدمات اور انٹرنیٹ پر پابندی لگائی گئی۔
مظاہرہ کے دوران لگائی گئی پابندیوں سے متعلق سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے جواب داخل کر دیا گیا ہے اور بغیر شرط معافی بھی مانگی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں یہ بحث چل رہی ہے کہ حکومت نے معافی مانگ لی ہے، جبکہ حکم عدولی کی کارروائی میں بلاشرط معافی مانگنا ایک رسمی عمل بھی ہے۔ اس پر جسٹس جوئے مالیا باگچی نے کہا کہ عدالت کو حلف نامے تاخیر سے ملے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک صرف ڈی ایم آر سی کا حلف نامہ ملا تھا۔ سالیسٹر جنرل نے جواب میں کہا کہ دہلی پولیس کمشنر نے اپنے حلف نامہ میں کارروائی سے متعلق سبھی بنیادی باتیں سامنے رکھی ہیں۔ اس پر جسٹس باگچی نے معافی سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اس بلاشرط معافی پر توجہ نہیں دے رہی ہے، کیونکہ سالیسٹر جنرل کی دلیلوں سے یہ مشروط معافی جیسی معلوم ہو رہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں