ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جموں و کشمیر اسمبلی کے 2027 کے بجٹ اجلاس میں پنجابی، گوجری اور پہاڑی کو سرکاری زبانیں قرار دینے کے لیے بل پیش ہوگا: شمی اوبرائے

سرینگر/نیشنل کانفرنس کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت نے سال 2027 کے بجٹ اجلاس کے دوران اسمبلی میں ایک بل پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت پنجابی، گوجری اور پہاڑی زبانوں کو جموں و کشمیر کی سرکاری زبانوں کا درجہ دیا جائے گا۔نیشنل کانفرنس کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ شمی اوبرائے نے کہا کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ پنجابی زبان کو سرکاری زبانوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے پنجابی، گوجری اور پہاڑی زبانوں کو سرکاری زبانوں کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
بدھ کے روز شمّی اوبرائے نے سکھ سنگت اور مختلف گردوارہ پربندھک کمیٹیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی، جس کے دوران انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ پنجابی زبان کو جموں و کشمیر کے سرکاری زبانوں سے متعلق قانون کے تحت سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر سرکاری زبانوں کا قانون 2020 منظور کیا تھا۔ اس قانون کے تحت کشمیری، ڈوگری، اردو، ہندی اور انگریزی کو جموں و کشمیر کی سرکاری زبانیں قرار دیا گیا تھا۔
قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کا منتظم گوجری، پنجابی اور پہاڑی زبانوں کے فروغ اور ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کرے گا۔ اس مقصد کے لیے جموں و کشمیر اکیڈمی برائے فن، ثقافت اور زبانوں جیسے ادارہ جاتی ذرائع سے کام لیا جائے گا۔قابلِ ذکر ہے کہ جموں و کشمیر تنظیمِ نو ایکٹ 2019 کے تحت مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی اسمبلی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کے لیے قانون سازی کر سکتی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں