ویب ڈیسک —
بھارت میں جہاں ایک طرف کرونا وائرس کی صورتِ حال تشویش ناک ہو رہی ہے وہیں دریائے گنگا میں تیرتی ہوئی درجنوں ایسی لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں قیاس کیا جارہا ہے کہ یہ کووڈ-19 کے مریضوں کی ہیں۔
بھارت کے حکام نے اگرچہ منگل کو کہا ہے کہ وہ دریائے گنگا میں ملنے والی لاشوں کی وجۂ موت کا پتہ نہیں لگا سکے تاہم ان لاشوں کے ملنے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
ریاست بہار کے حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو گنگا سے 71 لاشیں ملی تھیں جب کہ ریاست اتر پردیش کے حکام کے مطابق تقریباً 100 لاشیں گنگا کے ساحل سے مل چکی ہیں۔
دریائے گنگا سے ملنے والی یہ لاشیں پرانی ہیں جو پھول چکی ہیں جب کہ حکام کی جانب سے لاشوں کے پوسٹ مارٹم بھی کیے گئے ہیں لیکن اب تک موت کی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔
ریاست اترپردیش کے ضلع غازی پور کے اعلیٰ سرکاری عہدیدار ایم پی سنگھ کا کہنا ہے کہ ‘ابھی ہمارے لیے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ یہ لاشیں کہاں سے آئی ہیں۔’
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ دو الگ الگ ریاستوں میں گنگا میں تیرتی لاشیں ملنے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ایک مقامی رہائشی اکھنڈ پرتاپ کے مطابق ‘شمشان گھاٹ میں لکڑیوں کی کمی کی وجہ سے لوگ چتا جلانے کے بجائے لاشوں کو مقدس دریائے گنگا میں برد کر رہے ہیں۔’
دریا میں تیرتی لاشوں کی تصاویر نے لوگوں میں غصے کو جنم دیا ہے اور یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ ان کی موت کووڈ-19 سے ہوئی ہے۔
کچھ طبی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا وائرس آلودہ پانی کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔
ڈاکٹر محسن ولی کا کہنا ہے کہ ‘اگرچہ اب تک کوئی عالمی تحقیق نہیں کہ وائرس کس طرح پانی میں لاشوں کے ذریعے پھیل سکتا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ اب یہ پانی آلودہ ہو گیا ہے۔’
ان کے بقول ‘دریائے گنگا کا پانی اب پینے کے قابل نہیں رہا اور اس میں لاشیں تیرنے کے بعد تو یہ مزید خطرناک ہو گا۔’


No media source currently available
دوسری جانب بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز میں گزشتہ دنوں کی نسبت اگرچہ معمولی کمی دیکھی گئی ہے تاہم اموات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
بھارت کی وزارتِ صحت کے مطابق بدھ کو ملک میں کرونا وائرس کے مزید تین لاکھ 48 ہزار 421 نئے کیسز اور ریکارڈ چار ہزار 205 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں عالمی وبا سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور دو کروڑ 33 لاکھ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
دریائے گنگا ہندوؤں کے لیے مقدس کیوں ہے؟
ہندو مت میں دریائے گنگا کو نہایت مقدس سمجھا جاتا ہے۔ اُن کا عقیدہ ہے کہ اس میں غسل کرنے سے تمام گناہ دھل جاتے ہیں۔
مرنے والے ہندوؤں کی چتا (لاش) جلانے کے بعد اس کی راکھ گنگا میں بہانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔
ملک کے کئی اہم شہر بھی گنگا کے کنارے آباد ہیں جب کہ یہ دریا متعدد صنعتی شہروں سے گزرتا ہے جس کی وجہ سے صنعتی فضلے سمیت بے شمار کچرا بھی دریا میں شامل ہو جاتا ہے۔
