چلی کے صدارتی انتخابات میں سابق سٹوڈنٹ لیڈر گیبرئیل بورچ نے میدان مار لیا اور ملک کے کم عمر ترین صدر بن گئے۔35 سالہ گیبرئیل بورچ 2012 میں چلی یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ لیڈر کے طور پر شہرت حاصل کی تھی۔ دو ہزار اٹھارہ میں ایک عوامی تحریک کی قیادت کی اور اب صدارتی انتخابات جیت کرملک کے صدر بن گئے۔پچاس برس بعد سوشل صدر کی جیت کی خوشی میں سنتیاگو کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے جشن منایا جبکہ چلی کی سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی۔
چلی کے نامزد صدر گیبریل بورچ پینتیس برس کے ہیں اور انہیں عوامی مقبولیت دس برس قبل ہونے والے عوامی مظاہروں کے دوران حاصل ہوئی۔ وہ سن 2011 سے لے کر 2013 تک کے مظاہروں میں ایک اہم رہنما بن کر ابھرے تھے۔
ان کے والد لوئیس بورچ کروشیائی نژاد تھے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ کیمیکل انجینیئر تھے۔ گیبریل بورچ نے دارالحکومت سنتیاگو میں واقع چلی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ سن 2012 میں چلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔
