ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

نئی حکومت میں پیپلز پارٹی کا کوئی حصہ نہیں ہوگا، حکومت ن لیگ بنائے گی: بلاول بھٹو زرداری

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نئی حکومت میں ہماری جماعت کا کوئی حصہ نہیں ہوگا، ہم کوئی وزارت بھی نہیں لیں گے۔ ہمارا کام صرف حکومت کو سپورٹ کرنا ہوگا۔

نیا دور سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اسی لانگ مارچ کی وجہ سے ہم تحریک عدم اعتماد لا رہے ہیں۔ یہ لانگ مارچ ناصرف حکومت وقت کیخلاف ہے بلکہ یہ پاکستان کو بچانے کی جدوجہد ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم حکومت کیخلاف عدم اعتماد کی مہم چلا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی حکومت کیخلاف ساری اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر آ چکی ہیں۔ سب عدم اعتماد کے حق میں ہیں کیونکہ متحدہ اپوزیشن کا اپنا اثر ہوتا ہے۔ ساری جماعتیں اس پر بھرپور کام کر رہی ہیں۔ انشا اللہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہونگے۔ ماضی میں بھی ہم نے سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کو جتوا کر حکومت کو شکست سے دوچار کیا تھا، اس مرتبہ بھی ہم اکھٹے ہو کر ایک مرتبہ پھر تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد ہمارا لائحہ عمل یہ ہے کہ ملک میں جلد از جلد صاف اور شفاف الیکشن کا انعقاد کیا جائے۔ ایسی حکومت سامنے آئے جس کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہو اور وہ عوام کے مسائل حل کر سکے۔

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرانے کیلئے ہمارے پاس کافی نمبرز موجود ہیں۔ ملک میں الیکٹورل ریفارمز کرنے کی ضرورت ہے۔ انشا اللہ تعالیٰ یہ اہم کام کروانے کے بعد ہم الیکشن کی جانب جائیں گے۔ ہماری محنت جاری ہے۔ اپوزیشن کی طاقت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم اس کوشش میں کامیاب ہونگے۔

ان کا کہنا تھا کہ درمیانی حکومت کا صرف اور صرف مینڈیٹ الیکٹورل ریفارم ہوگا۔ یہ کام جتنی جلدی ممکن ہو سکے گا اتنا ہی بہتر ہے اس کے بعد ہی ہم انتخابات کی طرف جائیں گے۔ ہمارے ساتھ شامل تمام جماعتوں کا صرف ایک ایجنڈا ہے کہ اس حکومت کو جلد از جلد گھر بھیج کر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کا انعقاد ممکن بنایا جائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس حد تک تو تمام جماعتیں ایک ساتھ ہیں لیکن اس کے علاوہ ہم سب کا اپنا اپنا الگ منشور ہے۔ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے اپنے نظریات ہیں۔ نئی حکومت میں پیپلز پارٹی کا کوئی حصہ نہیں ہوگا اور نہ کوئی وزارت لے گی۔ ہم صرف اسے سپورٹ کریں گے۔ ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی زندگی بھر کی جدوجہد کو کامیاب کرانے کیلئے اتنی محنت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی بھرپور حصہ لے گی اور ہم اپنا وزیراعظم کا امیدوار سامنے لائیں گے۔ تاہم عمران خان کے جانے کے بعد درمیانی مدت کی حکومت میں وزیراعظم بنانا مسلم لیگ ن کا حق ہے کیونکہ وہ اکثریتی جماعت ہے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں