تحریر : محمد امنان
خواتین کا عالمی دن پوری دنیا میں مارچ کے پہلے ہفتے کو منایا جاتا ہے ۔ اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کو انکے حقوق بارے آگاہی فراہم کرنا اور معاشرے میں خواتین کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے ۔ کسی بھی معاشرے میں مضبوط اقدار کے پیچھے ہمیشہ خواتین کی محنت اور تربیت ہوا کرتی ہے۔ ماں کے کردار میں عورت بچوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نہ صرف ڈھالتی ہے بلکہ اخلاقی تربیت کے ساتھ بچوں کو معاشرے کے تئیں انکی ذمہ داریوں کے حوالہ سے بھی آشنا کرتی ہے۔
لیکن پاکستان میں تاحال خواتین کو انکی خدمات کے تناظر میں ہم خاطر خواہ پذیرائی نہ دے سکے ہیں ۔ پاکستان میں مارچ کا پہلا ہفتہ پچھلے کچھ سالوں سے دو سوچوں کے تصادم اور خواتین کے حقوق کے حق اور مخالف بحثوں کے کے طور پر منایا جاتا ہے ایک طبقہ خواتین کو معاشرتی آزادی اور تمام تر حقوق دینے کے حق میں ہے جبکہ دوسرا نظریہ ان خواتین کو ہماری معاشرتی اقدار اور مذہبی اقدار کے حوالے دیکر چار دیواری تک محدود کرنے پر بضد ہے۔
اس سال بھی مذہبی امور کے ایک وزیر کی جانب سے وویمن ڈے کو حیاء ڈے میں تبدیل کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی مدبروں اور دانشوروں کے مطابق ایسے اقداماے نہ صرف وومن مارچ کے حامیوں کو اشتعال دلائیں گے بلکہ ان دونوں نظریات کے ٹکراو کا اثر ہماری معاشرتی اقدار پر پڑے گا جو پہلے ہی کافی کمزور اور عدم برداشت کی بیماری میں مبتلا ہے۔ حالانکہ اسلام اس معاملے میں واضح اور کھلا مذہب ہے کہ جس نے عورت کے حقوق پر نہ صرف زور دیا بلکہ عورت کی عزت و حرمت کے حوالہ سے سب سے زیادہ جامع احکامات بھی دیے لیکن تعلیمات ہمارے ملک میں قانون کی طرح ہیں جو صرف کاغذوں کتابوں کا حصہ ہیں عملی طور پہ ہر ایک کا اپنا الگ قبلہ ہے
خیر یہ معاملہ تو ہر سال مارچ کے دنوں میں زور و شور سے مخالف اور حق میں آنے والے افراد کی جانب سے موضوع بحث رہتا ہے مگر مجھ ناقص العلم آدمی کے ذہن میں ایک بات بار بار ٹہوکا دے رہی ہے کہ عورت مارچ کا حق اور مخالف طبقے کی جانب سے شاید عورت کو اسکے گھر میں بنیادی تحفظ اور حقوق دینے کے حوالہ سے اس طرح کوششیں نہیں کی جاتی جتنا وقت بحث میں صرف کیا جاتا ہے
ابھی کل ہی کا واقعہ بلکہ سانحہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے علاقہ میں ایک بند ذہن جاہل نے اپنی سات دن کی بچی کو پانچ فائر مار کر صرف اسلیے قتل کر دیا کہ اسے بیٹا چاہئیے تھا۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی لڑکیوں کو شاید اسلیے زندہ درگور کرتے تھے کہ اس زمانے میں بندوق ایجاد نہیں ہوئی تھی ۔ مملکت خداداد میں یہ معاملہ قتل تک ہی نہیں رکتا بلکہ اس سے آگے جو انسانیت کے لیے انتہائی شرما دینے اور سر جھکا دینے والے سانحات ہیں روز وقع پذیر ہو رہے ہیں۔ کہیں کوئی بد بخت بیٹی کے رشتے کو جنسی تسکین کے لیے پامال کر رہا ہے تو کہیں بھائیوں کی درندگی بنت حوا کی عصمت کو تار تار کر رہی ہے
اب سوال یہ ہے کہ اس ذہنیت کو پنپنے سے پہلے کچلنے کے لیے اس کے لیے تدارک کے لیے ہماری حکومت، سول سوسائٹی ، میڈیا اور درسگاہوں کا کیا کردار ہے، عورت مارچ کے حامیوں سے بھی میرا سوال ہے کہ دیہی علاقوں میں خواتین کو انکے حقوق کی آگاہی فراہم کرنے کے لیے کونی کیمپین چلائی جا رہی ہے یا ہراسمنٹ سے بچنے یا گھر میں جنسی زیادتی اور تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ فراہم کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل بنایا گیا ہے ،
عورت مارچ کے مخالفین اور حق میں اٹھنے والی آوازوں اور ریاست سمیت تمام ذمہ داران سے پوچھتا ہوں کہ اخلاقی تربیت کی ذمہ داری کس کی ہے؟؟؟ کیا عورت مارچ یا حقوق کی آگاہی کا نعرہ مارنے کا مقصد صرف توجہ حاصل کرنا ہے؟؟؟ ذہن سازی اور کردار سازی کی جانب ہماری توجہ کب مبذول ہو گی ؟؟؟؟ آخر کب؟؟
یہ سوال میرا نہیں میانوالی میں بے دردی سے قتل کر دی جانے والی گڑیا کا ہے ، ہو سکتا ہے عورت مارچ کے حامیوں اور مخالفوں کے پاس اسکا کوئی جواز یا جواب موجود ہو