
مانسہرہ /اسلام آباد(صباح نیوز+آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 3چوہے مل کر میرا شکار کرنا چاہتے ہیں، انہیں شکست دوں گا، یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح عمران خان ان کو این آر او دے،اگر میں نے انہیں این آر او دے دیا تو یہ پاکستان سے سب سے بڑی غداری ہو گی۔اسلام آباد میں منڈی لگی ہوئی ہے جہاں لوگوں کو خریدنے کے لیے 20/25 کروڑ کی پیشکش کی جارہی ہے۔خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں پی ٹی آئی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہر جلسے میں اپنے آپ کو کہہ کر جاتا ہوں فضل الرحمن کو ڈیزل نہیں کہوں گا لیکن جب تقریر کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو پنڈال سے ڈیزل ڈیزل کی آواز یںآنا شروع ہوجاتی ہیں، برے اور مشکل وقت میں پوری کوشش کی ڈیزل کی قیمت کم کی جائے۔عمران خان نے کہا کہ میں کرکٹ کی دنیا کا سپر اسٹار رہ چکا ہوں، نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، نوجوانوں کو سکھانا چاہتا ہوں تباہی اور عظمت کا راستہ کون سا ہے، سچ اور حق کا راستہ آسان نہیں بہت مشکل ہوتا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیا کے خلاف قرارداد پاس کرائی، اب ہر سال 15مارچ اسلامو فوبیا کے خلاف دن منایا جائے گا، آزادی رائے کے نام پر مسلمانوں کو تکلیف دی جاتی تھی، گزشتہ 30سال فضل الرحمن سیاست میں ہے اس نے یہ کیوں نہیں کیا، پی ڈی ایم سربراہ 30 سال سے دین کے نام پر سیاست کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں انصاف نہ ہو و ہ ترقی نہیں کرسکتا، جس معاشرے میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہ معاشرہ ترقی نہیں کرتا،عوام سے وعدہ کرتا ہوں سبز پاسپورٹ کی عزت کراؤں گا۔عمران خان کا کہنا تھاکہ بھارت سے تب دوستی کریں گے جب تک 5 اگست کا غیرقانونی اقدام واپس نہیں لیتا، ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن ملک کو کسی کے سامنے جھکنے نہیں دیں گے،اللہ نے یہ اجازت نہیں دی اچھے اور بْرے کی جنگ ہو تو آپ کہیں میں نیوٹرل ہوں، ہمارا معاشرہ امر بالمعروف پر نہیں مغربی معاشرہ امر بالمعروف پر چل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بھگوڑا بیماری کا بہانہ کر کے ملک چھوڑ کر فرار ہو گیا، بھگوڑے نے بیٹی کے نام پر جایداد خریدی،چوہا نمبرون شہبازشریف وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہا ہے، لیگی صدر کہتا ہے یورپی یونین کے خلاف تقریر نہیں کرنی چاہیے، اپوزیشن لیڈر کہتا ہے اگر وہ ہوتا تو امریکییوں کو ناراض نہ کرتا، جہاں بھی بوٹ دیکھتا ہے جوتے پالش کرتا ہے مجھے کسی طرح وزیراعظم بنا دو، شہبازشریف اچکن سنبھال کر رکھ لو کسی اور کو دینی پڑے گی، شریف خاندان کے لوٹ مار، چوری کے دن چلے گئے، مجھے لگ رہا ہے شریف خاندان لندن جاکرسیاست کریں گے، اگرشریف خاندان نے لندن میں سیاست کی تو یہ لندن کا بھی دیوالیہ نکال دیں گے، شہبازشریف نے اتنے جوتے پالش کیے اس کا نام ’چیری بلاسم ‘رکھ دیتا ہوں۔علاوہ ازیں سینئر صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہوں لیکن کسی صورت سودے بازی نہیں کروں گا،عدم اعتماد کا آخری لمحے تک پتا نہیں چل سکتا کہ کتنے ارکان آپ کے ساتھ ہیں، جلد سے جلد بھی الیکشن کے لیے6 ماہ چاہییں، ہمیں الیکشن کا کوئی خوف نہیں، ہم ہر صورتحال کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے سوچا ہی نہیں، نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ جولائی اگست میں ہوتا ہے، اپریل میں آرمی چیف کے تقرر کی باتیں قیاس آرائیاں ہیں، صرف افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے جنرل فیض کو روکنا چاہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی اتحادیوں سے بات چیت جاری ہے تحریک عدم اعتماد کو شکست دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ اتحادیوں اور منحرف ارکان سے رابطے میں ہیں، وہ عوامی مقبولیت کو دیکھ رہے ہیں اوروزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب سے اپوزیشن عدم اعتماد لائی ہے تب سے ہماری مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور پی ٹی آئی کی دھرنے کے وقت جو مقبولیت تھی وہی مقبولیت اس وقت ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ دیکھیں گے جلسے میں کتنے لوگ آئیں گے، چاہے اتحادی ہوں، منحرف ارکان یا ادارے، سب حکومت کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے، بعض لوگوں کو خدشہ ہوگیا تھا کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت کم ہورہی ہے لیکن گزشتہ دو ہفتے میں اس میں اضافہ ہوا ہے، 27مارچ کوبڑا جلسہ ہوگا اس سے واضح ہوگا کہ پی ٹی آئی کتنی مقبول ہے، جسے لگتا ہے حکومت جانی چاہے تو وہ اپنا ذہن بدل لے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ادارے نیوٹرل ہیں، ان پر جو بھی ماضی میں تنقید ہوتی رہی، اب اداروں نے خود کو نیوٹرل رکھا ہوا ہے، آئینی و قانونی طور پر فوج ہمارے ساتھ ہے اور ہمیں کسی سپورٹ کی بھی ضرورت نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں لگتا ہے امپائر نیوٹرل ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کرپشن بچانے کے لیے اور خاص کر شہباز شریف کے کیسز کو لے کر یہ تحریک لائی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھاکہ اپوزیشن کو کوئی غلط فہمی ہوگئی تھی کہ حال ہی میں جو تبدیلی ہوئی اس سے حکومت کی سپورٹ ختم ہوجائے گی اسی لیے اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لائی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر اہم شخصیت کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی خبروں کی بھی تردید کی۔مزید برآں وزیراعظم کی زیر صدارت سیاسی کمیٹی اجلاس میں وفاقی وزرا، مرکزی رہنمائوں سمیت اسپیکر قومی اسمبلی نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو سمجھتے ہیں کہ کھیل ختم ہوا، انہیں بتا دوں کہ پارٹی ابھی شروع ہوئی ہے، تحریک انصاف اس بحران سے نکل کر مزید مضبوط ہوگی، ہم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں اور 27 کو عوام کا سپورٹ دیکھ کر اپوزیشن بوکھلا جائے گی، مزید کہا کہ عوام میری طاقت ہے، 27مارچ کے جلسے میں مخالفین کو سرپرائز دوں گا۔