ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

موت سے کیا ڈر شہادت ہےاپنا مشن

تحریر
افتخار میر لاشار
گنداواہ
نوتال ٹو گنداواہ شہداۓ لاشار روڈ
موت سے کیا ڈر شہادت ہے اپنا مشن
پاکستان آرمی کے جوان شہید محبوب علی لاشاری نے اپنے وطن کی خاطر دہشت گردوں کے مقابلے میں شہید ہوگۓ قوم لاشاری کے سر فخر سے بلند ہوگئے پاکستان آرمی کے جوان شہید طریل خان لاشاری ہمیں دکھ ہے بھلا جوانی میں بھی ایسا ہوتا ہے میں سلام پیش کرتا ہوں ان ماؤں کو جو اپنے وطن کی خاطر اپنی کلیجہ کے ٹکڑے قربان کرنے کے لۓ دریغ نہیں کرتے پاک آرمی جوان شہید دھنی بخش لاشاری آپ کی شہادت پے ہمیں فخر ہے میرگہرام اعظم تیرے جانے کے بعد کمزور ضرور ہوئے مگر خدا کی قسم چھ سو سالوں میں تیرے قوم لاشار نے شہادت کو گلے لگایا اگر میں شہادوں کی داستان لکھوں تو ایسے لاشاری کے سیکڑوں شہدائے لاشار اپنے وطن کی خاطر شہید ہوگۓ اگر فرنٹیر کور بلوچستان کے شہید امام بخش لاشاری نے شہادت کو گلے لگایا قوم کا شہدا کو سلام فرنٹیر کور بلوچستان شہید دھنی بخش لاشاری کی شہادت نے ثابت کیا تخت لاشار گاجان بلوچستان کے لاشاریوں کو پیغام دیا ہم دھرتی پے ایک کیا اگر سو بار زندگی ملے ہمیں شہادت قبول ہے لیکن وطن پے سودا بازی نہیں کرینگے فرنٹیر کور بلوچستان شہید فدا حسین لاشاری آپ کی شہادت سے معلوم ہوا جھل مگسی تخت گنداواہ کے لاشاری میر گہرام اعظم لاشار کے ساتھ چھ سو سال پہلے اپنے دھرتی پے شہید ہوۓ اور ہمیشہ کے لۓ شہادت کو گلے سے لگاتے ہیں اتنا ہی اگر میں کہوں پورے پاکستان میں لاشاریوں نے شہادت قبول کی لیکن اپنے وطن خون نسل گہرام سے دغا بازی نہیں کی میں کس کس شہدائے لاشار کا نام لکھوں عرصہ دراز سے نوتال سے گنداواہ تک ایسی جگہ زمین کی نہیں ہے جہاں پے لاشاری کی شہادت نہ ہوئی ہو اگر میں بات نوتال پے کروں شہدائے لاشار روڈ پہ دل خون کے آنسؤں روتا ہے لیویز فورس کے جوان شہید ایوب خان لاشاری نے جان کی پرواہ نہیں کی اولاد کو یتیم یتیم کیا وطن کی خاطر شہید ہوگۓ لاشاری لیویز اہلکار شہید عبدالرحمن لاشاری نے پوری وین کو ڈاکؤں کو لوٹنے سے بچایا تحفظ فراہم کیا شہادت قبول کیا قوم کا شہدائے کو قوم سلام شہید قائم خان لاشاری نے اپنے خون سے زمین کو آباد کیا شہید لیویز فورس لعل بخش لاشاری نے میر گہرام خان لاشاری کی نسل سے وفا داری نبھائی اگر بات کریں شہدائے جھل مگسی کی تو لاشاری نے اتنی قربانی دی ہے میں کیسے لکھوں شہیدوں کی تعریف واہ لاشاری شہید عبدالنبی ڈیڑھ گھنٹے کا سفر 78کلو میٹر کی زمین گواہ رہنا نوتال سے گنداواہ تک شہداۓ لاشار روڈ پہ کوئی ایسی زمین نہیں ہے جہاں پہ لاشاری کا خون نہ گرا ہو تاریخ گواہ ہے لاشاریوں نے اپنے والدین چھوڑے بیوی ودواہ کیے بچے یتیم کیے لیکن اپنے فرض نبھانے میں ذرا بھی غفلت نہیں کیا شہید لیویز جوان فتح علی لاشاری کا نام سن کر دل بیٹھ جاتا ہے ایک معصوم تین سالہ بچہ کو یتیم کیا لیکن دشمن کے سامنے ویپن ڈالنے سے صاف انکار کیا میں لاشاری ہوں ویپن سرکار نے مجھے قوم کی حفاظت کیلئے دی ہے گھات لگا کے بیٹھے دشمنوں سے مقابلہ کیا اور شہید ہوگۓ واقعی آپ کی باپ نے آپ کا نام سوچ سمجھ کے رکھا تھا اللہ نے آپ کو دونوں جہانوں کی فتح نصیب کیا رل وہ بیوی گۓ جو جوانی میں ود واہ ہوگۓ وہ چھوٹے بچے جو اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہو گئے آپ لوگ تو ہمیشہ کیلئے امر ہوگۓ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے سلام شہداۓ لیویز فورس جھل مگسی گنداواہ شہید فدا حسین لاشاری آپ نے تو نیو تاریخ رقم کی چوکی کے سامنے ڈاکؤوں نے گھاٹ لگا کر مسافروں کو لوٹ رہے تھے چوکی والے بھی تماشائی بن کے دیکھ رہے تھے آخر کیوں وہ سرکار سے پیسے نہیں لیتے کیا لاشاریوں کا زمہ داری ہے مسافر وین کو تحفظ فراہم کرنا جی تھرا جی لیویز اہلکار شہید فدا حسین لاشاری ان وین مسافروں کو تحفظ فراہم کیا اپنا فرض سمجھ کر مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش کیا اگر چاہتا تو یہ بھی نہ لڑتا اور نہ شہید ہوتے اللہ کی محربانی ہے لاشاری کی ہوتے ہوئے کبھی دشمن کو وین مسافروں کو لوٹنے نہیں دیا دشمن کے سامنے تاریخ گواہ ہے ویپن نہیں ڈالے دشمن سے مقابلہ کیا ازل سے لکھی ہے شہادت ہم فرض نبھاتے ہیں سمجھ کے عبادت شہید لیویز فورس بہار خان لاشاری فتح پور میں ٹیرارسٹ کو روکتے ہوئے عوام کو بڑی تعداد میں نقصان سے بچایا اور خود جام شہادت نوش کیا قوم و ملک سے وفا داری کی تاریخ رقم کردی شہید بہار خان لاشاری کی شہادت نے قوم لاشار کے اندر شہادت کا جزبہ پیدا کیا واضع ثبوت اب بھی بڑے شوق سے فرنٹیر کور بلوچستان میں 9th کلاس کے جوان نذیر احمد لاشاری اس کو پتہ تھا میں نے کون راستہ اختیار کیا وطن کے لۓ لاشاری قوم ہمیشہ کیلئے تیار ہے پولیس اہلکار شہید عبدالرحیم لاشاری قاضی اسماعیل چمن باڈر پے بہادری سے مقابلہ کیا سات دہشت گرد مارے اور خود بھی شہید ہوگئے اے راہ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں🇵🇰
صرف اتنا ہی نہیں ہر دور میں لاشاری نے وطن کی خاطر قربانی دی ہے پھر بھی کہتے ہیں پاکستان آرمی میں دیکھو ملک کی خاطر نوجوانوں کی شہادتیں فرنٹیر کور میں بھی لاشاریوں کی قربانیاں لیویز فورس میں تو ضلع جھل مگسی گنداواہ لاشاری کی بہادری میں اپنے مثال آپ ہے پھر بھی کہتے ہیں لاشاری قوم پرست ہیں کیا یہ آرمی ایف سی پولیس لیویز والوں نے اپنے مفاد کی جنگ لڑی خدا کی قسم اس وطن کی بقا کیلئے شہادتیں قبول کی لیکن وطن پے آنچ آنے نہیں دیا اگر پھر بھی ہم قوم پرست ہیں تو ہاں میں ہوں قوم پرست وہ جن کے گھر ویران ہوۓ
وہ جن کے دل قبرستان ہوۓ
وہ پھول سے چہرے بچوں کے
مرجھاۓ ہوۓ اکتاۓ ہوۓ
مجھے یاد ہے جب مگسی فیملی کے ساتھ کسی آفسر نے گنداواہ کا وزت کیا تو کہنے لگا ہر جگہ پہ صرف شہدائے لاشار کے بورڈ لگے ہوئے ہیں کہا آپ تو کہ رہے تھے لاشاری ادھر آٹا میں نمک کے برابر ہیں تو اتنا شہدائے لاشار کے کیوں سائن بورڈ لگے ہوۓ ہیں یہ لاشاری کی بہادری کا داستان ہے تاریخ کو کوئی نہیں ٹھکرا سکتا مجھے اچھی طرح یاد ہے باباۓ قوم لاشار مرحوم چیف سردار دھنی بخش خان لاشاری نے 16 مئی 2016 کو شہدائے لاشار گاجان کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا میر گہرام خان لاشاری نے پچیس ہزار لاشاریوں کی قربانی دی ہے میر گہرام خان لاشار تخت گنداواہ گاجان یہ دھرتی ہماری ماں ہے اس کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اس دھرتی کی خاطر میں بھی قربان ہونے کے لئے تیار ہوں اور ضرورت پڑی تو میں یہ بچے بھی قربان کرنے سے دریخ نہیں کروں گا یہ وہی مرحوم چیف سردار دھنی بخش لاشاری کی محنت ہے اس لۓ ہر لاشاری شہادت کو گلے سے لگاتا ہے لیکن اپنے مشن سے ہٹا نہیں ہے اور نہ انشاءاللہ ہٹے گا اور باباۓ لاشار نے مزید کہا یہ زمین بنجر تھی لاشاریوں نے اپنے خون سے اسے آباد کیا آپ کی جانے کے بعد ہمیں بہت آپ کی یاد آئ شہید مرتے نہیں ہیں شہید ہمیشہ ذندہ ہیں (سورۃ النساء)اس آیت کریمہ میں راہِ خدا کے جاں باز شہیدوں کو انبیاءؑ و صدیقین کے بعد تیسرا مرتبہ عطا کیا گیا ہے۔ شہادت ایک عظیم رتبہ اور بہت بڑا مقام ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں، جن کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوئی..

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں