اسلام آباد (رپورٹ: میاں منیر احمد) شہباز حکومت نے کارکردگی نہ دکھائی تو عمران خان کی اقتدار میں واپسی ممکن ہے ‘امریکا مخالف بیانیہ انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی کا ضامن بن سکتا ہے ‘ عمران خان نے ساڑھے 3 سال کے دوران عدم برداشت کو فروغ دیا‘ پی ٹی آئی کی اقتدار میں واپسی مشکل ہے ‘ فارن فنڈنگ کیس میں پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی ورکرز کی سربراہ ناہید خان، مسلم لیگ (ج) کے سربراہ اقبال ڈار، تاجر رہنما فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سابق ایگزیکٹو ممبر عمران شبیر عباسی، قومیہاکی ٹیم کے مایہ ناز سابق کھلاڑی ظفر اقبال،قانون دان ڈاکٹر صلاح الدین مینگل، قوسین فیصل مفتی ایڈووکیٹ اور مسلم لیگ (ض)پنجاب کے صدر میاں ساجد حسین نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ’’کیا عمران خان اقتدار میں واپس آسکیں گے؟‘‘ ناہید خان نے کہا کہ اگر ملک میں منصفانہ اور غیر جانبدار الیکشن ہوئے توعمران خان واپس آسکتے ہیں‘ ایسے انتخابات میں ہر سیاسی جماعت کے لیے مساوی مواقع ہوتے ہیں‘ عمران خان کی اقتدار میں واپسی کے لیے اس لیے بھی رائے بن رہی ہے کہ انہوں نے ایک ایسا بیانیہ بڑھا دیا جس کی عوام کی نظروں میں اہمیت ہے‘ امریکا مخالفت ملک میں بہت زیادہ ہے‘ وہ امریکا کی افغان پالیسی کے ناقد رہے ہیں اور مغرب پر تنقید کرتے ہیں لہٰذا یہ بیانیہ بہت چل سکتا ہے‘ اب ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں یہ کہنا کہ سازش نہیں تھی ‘مداخلت تھی اس کو بھی عام آدمی اہمیت دے گا۔اقبال ڈار نے کہا کہ اب حالات بدل گئے ہیں‘ عمران خان کی اقتدار میں واپسی مشکل دکھائی دے رہی ہیں۔ عمران شبیر عباسی نے کہا کہ اگر شہباز شریف حکومت نے کارکردگی نہ دکھائی، مہنگائی میں کمی نہ ہوئی اور ملکی مسائل جوں کے توں رہے تو عمران خان کی اقتدار میں واپسی ممکن ہے اور اگر شہبازحکومت نے کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی تو پھر عمران خان کی اقتدار میں واپسی مشکل ہے بہرحال اس وقت ابھی کوئی حتمی بات کہنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ ابھی تک عمران حکومت ختم ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا اور نئی حکومت ابھی قدم جما رہی ہے۔ظفر اقبال نے کہا کہ عمران خان نے ملک میں سیاسی تنائو پیدا کیا‘ ساڑھے 3 سال کے دوران وہ ایک روز بھی اہم آئینی معاملات پر اپوزیشن کے ساتھ نہیں بیٹھے‘ اس وجہ سے الیکشن کمیشن، نیب سمیت دیگر بہت سے آئینی اداروں میں تقرریاں نہیں ہو سکیں‘ ہمارے ملک میں سیاسی نظام آئینی اور جمہوری ہے اگر سیاسی جماعتیں اور حکومت خود ہی جمہوریت اور آئینی نظام کو ملیا میٹ کرنا شروع کردیں تو ان سے کسی قسم کی اچھائی کی امید نہیں کی جاسکتی‘ عمران خان نے اپنی حکومت کی عوامی مقبولیت کے لیے ریاست مدینہ کا نام لیا مگر سود کے خلاف وفاق کی اپیل واپس نہیں لی‘عمران خان نے ساڑھے 3 سال بات چیت کا دروازہ بند کیے رکھا‘ سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں کیے جاتے اب انہیں ایک سخت سیاسی ماحول کا سامنا کرنا پڑے گا‘ ان کی جماعت کو فارن فنڈنگ کیس میں پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ صلاح الدین مینگل نے کہا کہ ملکی سیاسی صورت حال میں عمران خان کا اقتدار میں واپس آنا ممکن نہیں تاہم وہ محنت کر رہے ہیں۔ قوسین فیصل مفتی ایڈووکیٹ نے کہا کہ انتخابات میں ہر سیاسی جماعت کے لیے مساوی مواقع ہوتے ہیں اور اگر سب کو مساوی مواقع مل جائیں تو ان کے لیے کام آسان ہوجاتا ہے کہ اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کریں‘ امریکا مخالف بیانیہ ملک میں چلتا ہے‘ عمران خان نے اسی کو اپنایا ہے ۔ میاں ساجد حسین نے کہا کہ وہ امریکا کی افغان پالیسی کے ناقد رہے ہیں اسی لیے عوام ان کی بات سن رہے ہیں۔