ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

علیحدگی پسند کشمیری رہنما یاسین ملک دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمے میں مجرم قرار

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی ایک عدالت نے دہشت گردوں کی مبینہ مالی معاونت کے کیس میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کو مجرم قرار دے دیا ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو حکم دیا ہے کہ وہ یاسین ملک کی مالی حالت کا بھی جائزہ لے تاکہ عدالت ان پر جرمانہ طے کر سکے۔

عدالت یاسین ملک پر اس کیس میں سزا کی حد آئندہ ہفتے 25 مئی کو طے کرے گی۔

یاسین ملک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع نہیں کریں گے۔

سیکیورٹی اداروں نے یاسین ملک کے خلاف غیر قانونی کارروائیوں کی روک تھام کے قانون یو اے پی اے کے تحت دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے فنڈ جمع کرنا، دہشت گردی کرنے کی سازش اور دہشت گرد گروہ کا رکن ہونے کےالزامات پرمقدمہ درج کیا تھا جب کہ ان پر بھارت کے فوجداری قوانین کے تحت مجرمانہ سازش اور بغاوت کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں۔


بھارت کے ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق قبل ازیں عدالت یہ کہہ چکی ہے کہ یاسین ملک دنیا بھر میں ایک ایسا نظام ترتیب دے چکے تھے جس سے وہ جموں وکشمیر میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے فنڈ جمع کرتے تھے اور اس کو ’آزادی کی جدوجہد‘ قرار دیتے تھے۔

عدالت نے یاسین ملک کے ساتھ ساتھ دیگر کشمیر ی رہنماؤں پر بھی فردِ جرم عائد کی ہے۔ ان رہنماؤں میں فاروق احمد ڈار، شبیر شاہ، مستر عالم، محمد یوسف شاہ، آفتاب احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، نعیم خان، محمد اکبر، حاجی معراج الدین، بشیر احمد بٹ، ظہور احمد شاہ، شبیر احمد شاہ، عبد الرشید شیخ اور نوال کشور کپور شامل ہیں۔

اس کیس میں لشکرِ طیبہ کے مبینہ سربراہ حافظ سعید احمد اور حزب المجاہدین کے کمانڈر سید صلاح الدین کے خلاف بھی چارج شیٹ پیش کی گئی تھی۔ ان افراد کو اس کیس میں مفرور قرار دیا جا چکا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں