ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

حکمران سودی معیشت کو ختم نہیں کرنا چاہتے ،بینک کی اپیل نے ملکی معیشت کو تباہ کردیا

کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید ) حکمران سودی معیشت کو ختم نہیں کرنا چاہتے‘ بینک کی اپیل نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا ‘ربا سے زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں‘ پیداواری لاگت میں اضافے سے مہنگائی بڑھتی ہے ‘کاروباری سرگرمیوں اور برآمدات پر منفی اثرات پڑتے ہیں ‘ سود سے پاک معیشت قائم کر دی جائے تو ملک کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ان خیالات کا اظہار جسٹس (ر) وجیہہ الدین، ڈاکٹر شاہد حسن، ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے صدر اسماعیل ستار، چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا،صدر یو بی جی زبیر طفیل، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’عدالتی فیصلے کے بعد ملک میں سودی معیشت کا خاتمہ ہو جائے گا؟‘‘ وجیہہ الدین نے کہا کہ 30 برس قبل ہی سود سے پاک معیشت کا فیصلہ دے دیا تھا لیکن یو بی ایل کی اپیل نے ملکی معیشت کوتباہ کر دیا ہے‘ سود کو عربی زبان میں ’’ربا‘‘ کہتے ہیں جس کے لغوی معنی زیادہ ہونا، پروان چڑھنا اور بلندی کی طرف جانا ہے اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ ’’ کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا‘‘ یہ سود ہے‘ سود خواہ کسی غریب و نادار سے لیا جائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری، حرص و طمع، خود غرضی، سنگدلی، مفاد پرستی، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے‘ اس لیے دینِ اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا‘ شریعت ِاسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیا ہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیا ہے‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔” جولوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن ایسے کھڑ ے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو‘ اسی لیے عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا تھا تاکہ ہماری معیشت کو سود جیسی لعنت سے محفوظ کیا جاسکے ‘ اس فیصلے پرعمل نہ ہو نے کی وجہ سے اس کے ثمرات نہیں اُٹھائے جا سکے‘ حکمران اگر چاہیں تو یہ ایک گھنٹے میں نافذ ہو سکتا ہے ۔ڈاکٹر شاہد حسن نے کہا کہ سود نے پوری معیشت کو تباہ کر دیا ہے‘ملک میں 30 جون 2000ء میں سودی معیشت کا خاتمہ ہو جاتا تو آج ملکی معیشت میں بہت حد تک بہتری آجاتی لیکن ایسا نہ کر نے کی وجہ سے ملک معاشی بحران کا شکار ہے‘ اب بھی اگر ملک میں سود سے پاک معیشت قائم کر دی جائے تو ملک کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا ہے لیکن حکمران سودی معیشت کو ختم نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ اسماعیل ستار نے کہا کہ سود نے ملکی معیشت کو منجمد کر دیا ہے جس سے قرضوں میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اور یہ معیشت کو گھن کی طرح تباہ کر رہا ہے‘ سود کی وجہ سے ایکسپورٹ ری فنانس کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے ۔ سوال یہ ہے قرض پر سود ہی اتنا ہو کہ قرض کا اُتارنا ہی مشکل ہو جائے تو ایسے قرض سے ترقی نہیں ہوسکتی‘ یہ تو معیشت، تجارت اورصنعت کے لیے تباہ کن ہے‘ سیاسی بحران کی موجودگی میں شرح سود کا اچانک بلند سطح پر پہنچنے سے تاجر برادری الجھن کا شکار ہو گئی ہے کیونکہ ان اقدامات کے نتیجے میں کاروباری لاگت میں نہ صرف بے پناہ اضافہ ہوتا ہے بلکہ مہنگائی کا طوفان آجا تاہے‘ آج ملک میں مہنگائی بڑھنے کی بڑی و جہ سود ہے‘ 5 سال میں سودی نظام کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ زبیر موتی والا نے کہا کہ سود کاروبار و برآمدات کا دشمن اور معیشت مخالف ہے جس سے ملک کی معیشت تباہ ہو رہی ہے‘ سود میں اچانک اضافہ انتہائی غیر منصفانہ ہے‘ سود کے خاتمے سے ملک کی تباہ کن معیشت میں بہتری آسکتی ہے ۔ زبیر طفیل نے کہا کہ سود معیشت کے لیے خوفناک ہے اور اس میں بار بار اضافہ صنعتوں کے لیے مشکلات کا سبب بن رہا ہے اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے‘ ہمارے ملک میں سود کے خلاف فیصلہ آرہا ہے اور یہا ںشرح سود سب سے زیادہ ہے ‘3 بار سود سے متعلق فیصلہ آچکا ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہو رہا ہے‘ ہمسایہ ملک بھارت میں شرح سود 4 فیصد جبکہ بنگلا دیش میں شرح سود 4.75 فیصد، سری لنکا میں شرح سود 6.5 فیصد ہے اور بھوٹان میں شرح سود 7.16 فیصد ہے ‘اس خطے میں پاکستان میں سب سے زیادہ شرح سود ہے جسے عدالتی فیصلے کے بعد ختم کیا جائے‘ سود کا سارا بوجھ صنعتکار وںاور عوام اُٹھا رہے ہیں‘ ملک سے سود ختم نہیں ہو ا تو صنعتی ترقی رک جائے گی‘ صنعتی لاگت بڑھنے کے اثرات ملکی ایکسپورٹ پر بھی منفی ہوں گے ‘ افسوس اس بات کاہے کہ ملکی معیشت کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں میں کاروباری برادری کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ سود کی وجہ سے معیشت تباہ، کاروبار متاثر اور مہنگائی بڑھ رہی ہے‘ جبکہ ملکی قرضوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے‘حکومت کو دیے جانے والے قرض پر سود میں اضافہ جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے‘ مالیاتی خسارہ 3.9 ٹریلین روپے تک ہوگا‘ اب وزیرخزانہ مفتاح اسمعٰیل کا کہنا ہے کہ مالیاتی خسارہ 6.4 ٹریلین روپے تک بڑھ سکتا ہے جو جی ڈی پی کے 10 فیصد کے برابرہوگا‘ ایسی صورتحال میں جب حکومت کے پاس صرف چند سو ارب روپے رہ گئے ہوں اور معاملات ہاتھ سے نکل رہے ہوں تو وہ مقامی ذرائع سے قرضے لینے کے بجائے غیر ملکی قرضے لے تو زیادہ بہتر رہے گا اور اس سے آئندہ بجٹ بنانے میں بھی مشکلات کم ہو جائیں گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں