سویڈش وزیر دفاع پیٹر ہلٹ کوئیسٹ نے کہا ہے کہ ان کے ملک اور فن لینڈ کی نیٹو میں رکنیت کے حوالے سے ترکی کے خدشات پر رکن ممالک سے سفارتی رابطے کیے جا رہے ہیں۔۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویل سے گفتگو کرتےہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ان کا ملک نیٹو میں رکنیت کے حوالے سے غیر جانبدار اور پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے ،سویڈن کی اقدار یورپ کے دیگر ممالک کی اقدار سے یکساں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین پر روسی جارحیت نے سویڈش عوام کا نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کا موقف اور یورپ کی صورت حال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
ہلٹ کوئسٹ نے کہا کہ ان کا ملک جوہری اسلحے کی ذخیرہ اندوزی کا ارادہ نہیں رکھتا مگر نیٹو میں شمولیت کے بعد روس کے خلاف ہم جنگی مشقیں ضرور کر سکتےہیں، جہاں تک ترکی کے خدشات کا سوال ہے تو ہم اس سلسلے میں نیٹو کے رکن ممالک کے ساتھ سفارتی رابطوں میں ہیں۔