ویب ڈیسک —
امریکہ نے بارودی سرنگوں کا استعمال محدود کرنے کا فیصلہ کیاہے جس کے بعد وہ اپنے نیٹو اتحادیوں اور دنیا کے اکثر ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا جہاں پہلے ہی اس کا اطلاق کیا جا چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام صدر جو بائیڈن کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی بہت دیر تک ،بچوں سمیت عام لوگوں کی زندگیوں پر بارودی سرنگوں کے غیر متناسب اثرات جاری رہتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق جزیرہ نما کوریا پر نہیں ہوگا، جس کی وجہ وہاں کے منفرد حالات اور جنوبی کوریا کو تحفظ فراہم کرنے کا امریکی عزم ہے۔
اس فیصلے کے بعد امریکہ کی پالیسی بین الاقوامی معاہدے ’اوٹووا کنونشن‘ سے ہم آہنگ ہو جائے گی، جو اینٹی پرسنل بارودی سرنگوں کے استعمال، ذخیرہ اندوزی، پیداوار اور منتقلی پر پابندی عائد کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کوریا کی سرزمین کے علاوہ ،امریکہ اپنی تمام بارودی سرنگیں تلف کرنے کا کام بھی شروع کرے گا۔