23 جون کو اقوام متحدہ بیوہ خواتین کا عالمی دن مناتی ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد ایسی خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے جن کے شوہر وفات پاچکے ہوں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 258 ملین خواتین بیوہ ہیں جو کہ بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور استحصال کا شکار ہیں۔ کسی عورت کا شوہر مر جائے لوگ اس پر منحوس ہونے کا الزام لگا دیتے ہیں۔ اس کا بائیکاٹ کردیتے ہیں بیوہ پہلے ہی صدمے سے دوچار ہوتی ہے اوپر سے معاشرہ اسکا معاشی سماجی استحصال شروع کردیتا ہے۔
ہندوستان میں صدیوں پہلے سے رسم عائد تھی کہ بیوہ کو مرنے والے شوہر کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ اگر یہ نہیں ہوتا تھا تواسکو الگ کردیا جاتا تھا اس کے بال کاٹ دئے جاتے تھے یا تو وہ صرف کالا لباس پہنتی تھی یا سفید اسکو کسی قسم کے زیور آرائش کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ نا ہی وہ شادی شدہ خواتین نا ہی حاملہ خواتین سے مل سکتی تھی۔ ایسے ایسے رواج تھے جو بیوہ کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ اب بھی دنیا کے پسماندہ علاقوں میں ایسے فرسودہ رواج موجود ہیں اور بیوہ خواتین سے نفرت کی جاتی ہے۔
تاہم اسلام میں ہم دیکھتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیوہ خاتون سے شادی کرکے مثال قائم کی۔ اسلام بیوہ خواتین کو عقد ثانی، اپنی مرضی سے شادی کا حق دیتا ہے۔ اسلام میں ایسی کسی چیز کی گنجائش کہ بیوہ پر زندگی تنگ کردی جائے۔ تاہم ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان میں بیوہ خواتین کے ساتھ حق تلفی عام ہے۔ بیوہ خواتین کو مہندی کی رسم میں مہندی نہیں لگانے دی جاتی۔ گود بھرائی کی رسم میں وہ حاملہ خاتون کو پھل اور دعا نہیں دے سکتی۔ میرے نزدیک تو مہندی اور گود بھرائی امیروں کے چونچلے ہیں اور بیوہ کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جیسے وہ کوئی منحوس ہے توہم پرستی کی انتہا ہے۔ اس کے ساتھ بیوہ کے مال و دولت کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اسکی کردار کشی بھی کی جاتی ہے۔
زندگی موت اللہ کے اختیار میں ہے کسی کے مرنے سے کوئی انسان کیسے قصوروار ماناجاسکتاہے۔ جس کہ جتنی زندگی لکھی گئ ہے وہ اتنا ہی زندہ رہے گا اس میں کسی انسان کو تکلیف دینا کہ وہ ذمہ دار ہے اس وجہ سے اسکے شوہر کی جان گئ یہ کہاں کا انصاف ہے۔ تاہم ترقی پذیر ممالک میں اکثر بیوہ خواتین کے ساتھ اچھوت والا سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کا سماجی بائیکاٹ کردیا جاتا ہے۔
اسکی وجہ سے وہ معاشی دباو میں آجاتی ہیں۔ اکثر خواتین اپنے شوہروں پر انحصار کرتی ہیں انکی ناگہانی اموات کی وجہ سے یہ خواتین فاقوں پر آجاتی ہیں۔ ہم سب کو اپنے اردگرد بیوہ خواتین کا خیال کرنا چاہیے۔کسی بھی بیوہ خاتون کو اسکے شوہر اور باپ کی وراثت میں حق ملنا چاہیے تاکہ وہ اپنے بچوں کی کفالت آسانی سے کرسکے۔ اگر بیوہ خاتون نوکری کرنا چاہتی ہے آگے پڑھنا چاہتی ہے تو اس کو اسکا حق ملنا چاہئے۔ بیوہ عورت انسان ہے اگر وہ دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہے تو ہم سب کو اسکا ساتھ دینا چاہئے۔ اسکے احساسات جذبات کا خیال کریں اور اسکو صدمے سے ڈیل کرنے کی ہمت دیں۔ بہت سی خواتین بیوگی کے بعد دوبارہ شادی نہیں کرتی انکے فیصلے کا احترام کریں اور انکے کنبے کا خیال رکھیں۔
تمام بنیادی حقوق پر انکا حق ہے اور ہم سب کو انکا احترام کرنا چاہیئے اور انکی مدد بھی کرنی چاہیے۔بیوہ خواتین کو پیار توجہ اور ہمدردی کی ضرورت ہے انکا ساتھ دیں۔ اقوام متحدہ 2011 سے اس دن کا انعقاد کررہا ہے تاکہ بیوہ خواتین کو غربت تشدد نفرت سے بچایا جائے اور انکو زندگی کی بنیادی سہولیات دی جائیں۔
مرد جب شادی کا ارادہ کریں تو انکو بیوہ خواتین کا بھی سوچنا چاہیے۔ہمارے ہاں دوسری شادی کا رواج بڑھتا جارہا ہے تو دوسری شادی کسی کم عمر کنواری دوشیزہ کے بجائے بیوہ سے کریں تاکہ اسکو اور بچوں کو ایک سہارا مل جائے۔ اس کے ساتھ حکومت اور معاشرہ بھی عزت سے بیوہ خواتین کی کفالت کرے انکو انکے پیروں پر کھڑا کرے تاکہ وہ کسی کی محتاج نا رہیں۔
ہم سب خاندانی نظام میں رہتے ہیں ہم سب کو اپنے سرکل میں بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کا خیال کرنا چاہیے ۔