English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پی ٹی آئی کو پھنسانے والے خود پھنس چکے ہیں: فواد چوہدری کی شفقنانیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو

القمر
اسلام آباد ( شفقنا نیوز) پی ٹی آئی نے اپنی "حقیقی آزادی مارچ” کی تیاری کو حتمی شکل دینا شروع کردی، رحیم یار خان سے عمران خان بڑا اعلان کرنے جارہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اب وہ اپنے جارحانہ انداز کو بتدریج بڑھانے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں البتہ مذاکرات کے میدان کو بھی خالی نہیں چھوڑ رہے، اسی غرض سے بیک گراؤنڈ پر اعلی سطحی مذاکرات بھی ہوئے ہیں اور صدر مملکت جناب عارف علوی نے بنیادی کردار بھی ادا کیا ہے مگر ابھی تک سابق وزیراعظم کی تلخ تقاریر جاری ہیں اور ان پس پردہ مذاکرات کے اثرات تاحال مثبت نظر نہیں آئے –
اس تمام صورتحال پر "شفقنا نیوز” نے سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، قانون و سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا بھی قلمدان سنبھالنے والے اور پاکستان تحریک انصاف کی ترجمانی کرنے والے فواد حسین چوہدری کے ساتھ خصوصی نشست کی- جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ اپنی سابقہ وفاقی حکومت کی کارکردگی سے کیا مطمئن تھے ؟ کیونکہ حکومت چھوڑتے ہی امپورٹڈ حکومت کا عنوان دیدیا تو انہوں نے کہاکہ ہر حکومت خصوصاً مخلوط حکومت میں مشکلات ہوتی ہیں شکایات بھی رہتی ہیں مگر ہماری حکومت ہر حوالےسے اس موجودہ حکومت سے کہیں بہتر رہی جو اب قوم پر مسلط ہوگئے ہیں ۔
ہماری پالیسیاں مجموعی طور پر درست سمت میں تھی، جب ان سے سوال کیا گیا کہ مسلسل پی ٹی آئی جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہے اس کا حل کیا نکلے گا ؟ کیا پی ٹی آئی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے؟ تو فواد چوہدری بولے اس کا حل "انہوں نے” ٹیکنو کریٹس حکومت کا سوچا ہے مگر کیا یہ مستقل حل ہے تو اس کا جواب "نا” میں ہے مگر تاحال صورت حال ایسی ہی بن رہی ہے البتہ مذاکرات سے ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹے مگر ہمارا بنیادی مطالبہ فی الفور انتخابات کا ہے، ہماری پارٹی کے چیئرمین عمران خان نے واضح کہہ دیا کہ انتخابات کے معاملے پر مذاکرات چاہیں تو ضرور کریں مگر اس کے سوا اس حکومت سے کیا مذاکرات کیے جائیں جو اقتدار میں آئی ہی خود کو "این آر او” دینے ہے کہ ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے کہ نیب بارے قانون منظور کرلیا اور اب اسحاق ڈار صاحب بھی واپسی کے لئے پرتول رہے ہیں اور ان کے معالجین نے بھی انہیں سفر کی بھی اجازت دیدی، شریف برادران سمیت دیگر تمام اپنے کیسز ختم کرانے میں لگے ہیں۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ سیاسی استحکام کیسے آئے کہ ہر تین سال بعد آرمی چیف کی تقرری کا مسئلہ بن جاتا ہے اور سیاسی حکومت فارغ ہوجاتی ہے اس معاملے کو مستقل طور پر حل ہونا چاہیئے- ایک اور سوال ان سے پوچھا گیا کہ کہتے ہیں کہ کامیاب جلسوں سے کبھی الیکشن نہیں جیتا جاسکتا مگر یہ پی ٹی آئی نے کر دکھایا ہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی اپنی حکومت پھر بنانے میں کامیاب ہوگئی کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اگلا الیکشن جیت لیں گے اور پھر اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لیں گے ؟ تو جواب دیا کہ عمران خان اپنی شہرت کی بلندیوں پر ہیں انہیں ہر مکتبہ فکر کے ساتھ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی حمایت مل چکی ہے کیا یہ کامیابی کم ہے کہ پاکستان کی سیاست اس وقت عمران خان کے گرد ہی گھوم رہی ہے جہاں دیکھیں جس چینل پر دیکھیں چاہے وہ پی ٹی آئی کا مخالف چینل ہی کیوں نہ ہو مگر تذکرہ وہ عمران خان کا ہی کررہا ہے یہی تو لیڈر کی کامیابی ہوتی ہے۔

میں آپ کی وساطت سے بتا رہا ہوں کہ عمران خان اب دو تہائی اکثریت سے الیکشن جیت کر آرہا ہے اور اس کے لئے پنجاب کے بعد سندھ کی ضرورت ہے اور عمران خان کا اگلا ہدف سندھ ہوگا، اس وقت سندھ کے عوام پیپلز پارٹی سے تنگ آچکے ہیں عمران خان ایک امید بن چکے ہیں اور وہ عوام کی امیدوں کو پورا کرنے جارہے ہیں- جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ آپ دوتہائی اکثریت سے بالفرض آجاتے ہیں تو پہلا اقدام کیا اٹھائینگے، کونسی ایسی آئینی ترمیم ہے جو آپ استحکام کے لئے کرنا چاہیئں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ آرمی چیف کی تقرری کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے مستقل طور پر حل ہونا ضروری ہے اسی وقت ملک میں مکمل استحکام آئے گا، پی ٹی آئی کے پاس مکمل پلان موجود ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ کوئی پلان نہیں تو دیکھیں ہمارا بیانیہ دن بدن مضبوط ہوا ہے، عوام نے اسے قبول کیا ہے اور ہم مسلسل کامیابی کے زینے چڑھ رہے ہیں۔
جب ان سے سوال کیا کہ "حقیقی آزادی مارچ” کا کیا آج "ہفتے” کو آغاز کرنے جارہے ہیں تو بولے آج عمران خان رحیم یار خان میں بڑے جلسے سے خطاب میں چاروں صوبوں بشمول کشمیر و گلگت بلتستان کے عوام کو ہر ضلع کی سطح پر پیغام دینگے ستمبر میں ہی اعلان ہوگا اور اکتوبر میں اسلام آباد میں پڑاؤ ڈالیں گے، رانا ثنا اللہ کو ایسا سرپرائز دینگے کہ وہ بھی چکرا جائیں گے- ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ کسی پارٹی قائد کو مائنس نہیں کیا جاسکتا، عمران خان ہماری ریڈ لائن ہے، کوئی یہ سوچتا ہے کہ وہ پارٹی اور قیادت کو الگ کرلے گا تو یہ خام خیالی ہے کچھ تجربے تو کئے گئے تھے مگر اس کے نتائج کیا نکلے؟
سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر پارٹیوں سے قیادت کو الگ نہیں کیا جاسکتا- ان سے سوال کیا گیا کہ جب ایک طرف مذاکرات کی بات تو دوسری جانب عمران خان تلخ لہجہ کیوں اختیار کرلیتے ہیں ؟ یہ ٹیلی فون کالز کا چکر ہے کیا ؟ تو سابق وزیر اطلاعات کا کہنا تھا پی ٹی آئی میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی، کچھ ایم پی ایز کو کالز بھی گئیں اسی کی جانب عمران خان نے اشارہ کیاتھا، ایک اور سوال ان پر ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کچھ لوگوں کو اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست بات چیت سے روکا ہے البتہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا- انکا مزید کہنا تھا کہ پارٹیاں ہمیشہ مذاکرات کرتی ہیں سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا مگر جب ہمارا واضح مطالبہ ہی انتخابات کا ہے اور اس پر بات ہی آگے نہ بڑھے تو پھر کس سے کیا مذاکرات ہونگے؟۔
ایک اور سوال پر فواد چوہدری نے کہاکہ پی ٹی آئی کو آؤٹ کرکے پھنسانے والے خود مشکل میں پھنس گئے ہیں، کل تک مہنگائی مارچ کرنے والے آج خاموش کیوں؟ کیوں اس معاملے پر منظر عام سے غائب ہوگئے ہیں مہنگائی اور ڈالر ریٹ کا حل سیاسی استحکام ہے اور یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک انتخابات کا اعلان نہیں ہوتا، شفاف انتخابات نہیں ہوئے استحکام نہیں آئیگا اور صورتحال کو حکومت خراب کرتی چلی جائیگی- ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی الیکشن کی تیاری شروع کرچکی ہے اور الیکشن سیل کے اجلاس طلب کئے جارہے ہیں آئندہ امیدواروں کو شارٹ لسٹ بھی کیا جارہا ہے، اس وقت ہمارے پاس امیدواروں کی قطاریں ہیں البتہ عمران خان نے واضح کردیا ہے وہ فیصلہ میرٹ پر کرینگے انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ہمیں چھوڑ کر گئے ہیں وہ "بیچارے” کہیں کے نہیں رہے۔
انتظار حسین
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے