English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ملت لیاقت علی خان کا 71 واں یوم شہادت

القمر

کراچی:تحریک آزادی کے سرکردہ رہنما اورپاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا 71 واں یوم شہادت اتوارکوانتہائی عقیدت سے منایا گیا۔

لیاقت علی خان نے سال 1896 میں بھارت کے علاقے کرنال کے نواب رستم علی خان کے گھر آنکھ کھولی، انھوں نے سال 1918 میں علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ بعد ازاں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

لیاقت علی خان کو زمانہ طالب علمی سے ہی برصغیر کے مسلمانوں کی دگرگوں حالات کا اندازہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے سال 1923 میں عملی طور پر سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور1936 میں مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔یوں انھوں نے قائد اعظم کا دست راست بن کر مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن حصول کے لیے شب وروز کام کیا، قائد ملت لیاقت علی خان کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کے بنیادی کردار کی حیثیت حاصل ہے۔

ان کا شمار پاکستان کے صف اول کے رہنماں اور معماران وطن میں ہوتا ہے۔تحریک آزادی کے دوران لیاقت علی خان قدم قدم پر قائداعظم کے شانہ بشانہ رہے، انہی کی کوششوں سے 1941 کے انتخابات میں کانگریس کے مقابلے میں آل انڈیا مسلم لیگ کو مسلمانوں نے ووٹ دیا اور بعد ازاں ان ہی انتھک کاوشوں کے نتیجے میں 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک پاکستان کے نام سے معرض وجود میں آیا۔قائداعظم کے انتقال کے بعد لیاقت علی خان نے انتہائی تدبر سے نومولود مملکت کے فرائض انجام دیئے۔

 ایک موقع پر بھارت کی جانب سے جارحیت کے جواب میں خان لیاقت علی خان نے قوم کا حوصلہ بلند کرنے کیلیے ہوا میں مکا لہرایا۔ جس کو دیکھ کر دشمن کے ارادے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔سولہ اکتوبر 1951 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران سید اکبرنامی شخص نے لیاقت علی خان پر گولیاں چلادیں۔

 جس کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انھوں نے جام شہادت نوش کیا، آپ کو پہلے وزیراعظم کے ساتھ قائد ملت اور شہید ملت کے خطابات سے نوازا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے