مقبوضہ بیت المقدس :فلسطین کے علاقے غزہ کی باقاعدہ عدالتوں کے سامنے پچھلے سالوں میں 111,000 سے زیادہ مقدمات لائے گئے۔
قانون کے مطابق یہ تمام کیسزحل طلب ہیں۔ غزہ میں عدالتوں میں کیسز کی بھرمار ہے مگرعدالتوں میں ججوں کی تعداد کیسز کے اعتبار سے آٹیمیں نمک کے برابر بھی نہیں اورغزہ کی 23 لاکھ کی آبادی کے لیے صرف 82 جج دستیاب ہیں۔
میڈیارپورٹس کے مطابق عدالتوں کے سامنے برسوں سے قانونی چارہ جوئی کے تنازعات کا جمع ہونا سال بہ سال ایک بڑھتا ہوا بحران بن چکا ہے جس سے غزہ کے باشندوں کے سیاسی اور معاشی بحرانوں کے ریکارڈ میں اضافہ ہوا۔ اس مسئلے نے فلسطینی عدلیہ پر اعتماد کو مجروح کیا۔
مقدمہ کا دم گھٹنے کے رجحان کی نمائندگی غزہ کے ججوں کی جانب سے گذشتہ ایک سال کے دوران عدالتی سیشنوں کے دوران دائر مقدمات کا فیصلہ کرنے میں ناکامی اور انہیں دوسرے سالوں میں منتقل کرنے کی صورت میں کی جاتی ہے، جسے طویل قانونی چارہ جوئی کہا جاتا ہے۔
اس رجحان میں قانونی اور آئینی تنازعات جس کی وجہ کیسز کا بہت زیادہ ہجوم ہو گیا ہے۔عدالتی اداروں کے سامنے فریقین کے تنازعات کی فائلیں اور اس سے ان شہریوں پر منفی اثر پڑتا ہے جنہوں نے قانون کو ہاتھ سے لینے یا اسے قبیلے کے طریقے سے حل کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔
فلسطین میں قانونی نظام عدالتی اختیار کی پیروی کرتا ہے اور اسے باقاعدہ عدلیہ میں تقسیم کیا گیا ہے جو آئین کے مطابق قانون کی شرائط سے نمٹتی ہے۔ قانون ساز کونسل کی طرف سے جاری کی جاتی ہے۔
