ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

شمالی قبرصی ترک جمہوریہ  کے صدر  ایرسین  تاتار  کے خلاف بد کلامی پر مذمت

شمالی قبرصی ترک جمہوریہ  کے صدر  ایرسین  تاتار  کے خلاف بد کلامی پر مختلف  سیاستدانوں  نے اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

ترکیہ کی  قومی اسمبلی   کے  اسپیکر  مصطفیٰ شَن توپ  نے ایرسن تاتار پر حملے کی مذمت  کی ہے۔

شَن توپ  نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر  بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں برطانیہ کے  دارالحکومت لندن میں شمالی قبرصی ترک جمہوریہ  کے صدر ایرسن تاتار پر حملے کی مذمت کرتا ہوں اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ اور اس جیسی اشتعال انگیز کارروائیاں ترک قبرصی عوام کی ان کے جائز مقصد کے لیے جدوجہد میں کبھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ انہوں نے کہا کہ قبرصی ترکوں  کی حمایت پرعزم  طریقے   سے جاری رکھیں گے۔

نائب صدر فوات اوکتاے نے ایرسن تاتار ٹیلی فون کرتے ہوئے ان کے لیے   نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

اوکتاے نے کہا کہ ترکیہ  کی حیثیت سے ہم ہر وقت اور تمام معاملات میں آپ کے ساتھ ہیں۔

وزیر خارجہ  میولود چاوش اولو نے بھی تاتار کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

چاوش اولو نے کہا کہ یونانی قبرصی، جو شمالی قبرصی ترک جمہوریہ   کو تسلیم  نہیں کرتے ہیں ترک ریاستوں کی تنظیم میں بطور مبصر رکنیت کو ہضم نہیں کرسکے ہیں۔

جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین نعمان قرتلمُش  نے کہا کہ ہم برطانوی حکام کو مسٹر تاتار کے خلاف اس حملے کی کوشش کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ  کا مقدر ہمارا مقدر ہے۔ ہم اپنے صدر کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہیں۔

شمالی قبرصی ترک جمہوریہ  کے صدر ایرسن تاتار  برطانیہ  کے کنگز کالج لندن  کے پروگرام میں  حصہ لینے کے لیے  جب  یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہو رہے تھے، تو چند ایک یونانی باشندوں جنہوں نے اپنے ہاتھوں  میں یونان کے پرچم اٹھار کھے تھے صدر تاتار کو یونیورسٹی میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں