ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

روس میں امریکی صحافی کی قید میں توسیع،’صحافت جرم نہیں’ گرشکووچ کے اخبار کا بیان

ویب ڈیسک۔ماسکو کی ایک عدالت نے جمعرات کو فیصلہ سنایا کہ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے رپورٹر ایوان گرشکووچ کو نومبر کے آخر تک جیل میں رہنا چاہیئے۔روس کے خبر رساں ادارے طاس کے مطابق انہیں آٹھ ماہ تک جیل میں رہنا ہوگا۔ان پر جاسوسی کا الزام ہےاور وہ مارچ کے آخر سےروس میں قید ہیں۔

انہیں رپورٹنگ کے دوران شہر ,یکاترنبرگ میں حراست میں لیا گیا تھا ۔ یہ مقام ماسکو سے تقریباً 2,000 کلومیٹر (1200 میل) مشرق میں واقع ہے ۔

31 سالہ امریکی شہری گیرشکووچ جمعرات کو ایک سفید جیل وین میں ماسکو کی عدالت میں لائے گئے ۔وہ ہتھکڑیوں میں تھے ۔وہ جینز، جوتے اور شرٹ میں ملبوس تھے ۔ انہیں 30 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ استغاثہ کی جانب سے اپنی گرفتاری میں توسیع کی درخواست کا نتیجہ سننے کے لیے عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت کے باہر صحافیوں کو کارروائی دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ طاس نے کہا کہ سماعت بند دروازوں کے پیچھے ہوئی کیونکہ فوجداری کیس کی تفصیلات خفیہ ہیں ۔

روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس نے کہا کہ گیرشکووچ نے ’’امریکی فریق کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے خفیہ ریاستی معلومات اکٹھی کیں جن کا تعلق روسی فوجی صنعتی کمپلیکس کے اداروں میں سے ایک کی سرگرمیوں سے ہے۔

گرشکووچ اور ان کے آجر(وال سٹریٹ جرنل ) نے ان الزامات کی تردید کی اور امریکی حکومت نے اعلان کیا کہ انہیں غلط طور پر حراست میں لیا گیا ہے ۔ ان کے کیس کو رازداری میں رکھا گیا ہے۔ روسی حکام نے اس بات کی تفصیل نہیں بتائی ہے کہ آیا ایسے ثبوت موجود ہیں جو جاسوسی کے الزامات کی تائید میں جمع کیے گئے ہوں ۔

وال سٹریٹ جرنل کے رپورٹر ایوان گرشکووچ عدالت میں

وال سٹریٹ جرنل کے رپورٹر ایوان گرشکووچ عدالت میں

وال اسٹریٹ جرنل نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ’’آج ہمارے ساتھی اور ممتاز صحافی ایوان گرشکووچ مقدمے کی کارروائی سے پہلے کی سماعت کے لیے پیش ہوئے جہاں ان کی غیرمناسب حراست میں ایک بار پھر توسیع کر دی گئی۔ ہمیں شدید مایوسی ہوئی ہے کہ بطور صحافی اپنا کام کرنے پر انہیں غلط طریقے سے حراست میں رکھا جا رہا ہے۔ ان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں اور ہم ان کی فوری رہائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ صحافت جرم نہیں ہے۔‘‘

روس میں امریکی سفیر لین ٹریسی نے اگست کے شروع میں گیرشکووچ سے تیسری بار ملاقات کی اور بتایا کہ وہ مشکل حالات کے باوجود اچھی صحت میں ہیں۔ انہیں ماسکو کی لیفورٹوو جیل میں رکھا گیا ہے جو اپنے کڑے ماحول کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ گرشکووچ ستمبر 1986 کے بعد سے روس میں جاسوسی کے الزامات کا سامنا کرنے والے پہلے امریکی رپورٹر ہیں۔1986 میں یو ایس نیوز اور ورلڈ رپورٹ کے ماسکو میں نمائندے نکولس ڈینیلوف کو کے جی بی (KGB) نے گرفتار کیا تھا۔


امریکی صحافی ایوین گیرشکووچ ماسکو کی ایک عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر ۔ 18 اپریل 2023

امریکی صحافی ایوین گیرشکووچ ماسکو کی ایک عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر ۔ 18 اپریل 2023

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین میں کریملن کی فوجی کارروائی پر امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ماسکو جیل میں بند امریکیوں کو سودے بازی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ روس میں حالیہ برسوں میں گرفتار کیے گئے کم از کم دو امریکی شہریوں کا تبادلہ امریکہ میں قید روسیوں کے بدلے میں کیا گیا ہے۔ ان میں معروف شخصیت برٹنی گرائنر شامل تھیں۔

روس کی وزارت خارجہ نے پہلے یہ کہا تھا کہ وہ گیرشکووچ کے مقدمے کا فیصلہ ہونے کے بعد ان کے تبادلے پر غور کرے گی۔ روس میں جاسوسی کے مقدمے ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں۔

(اس خبر کی تفصیلات ایسوسی ایٹڈ پریس سے لی گئی ہیں )

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں