روس کے تحقیقات کاروں نے غیرسرکاری ملیشیا ویگنر کے سربراہ یوگینی پریگوژن کی طیارہ حادثے میں ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔
روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے کہا ہے کہ نیم فوجی گروپ ویگنر کے سربراہ یوگینی پریگوژن کی گزشتہ بدھ کو طیارے کے حادثے میں موت کی تصدیق باضابطہ جینیاتی تجزیے سے ہوئی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کی ترجمان سفیتلانا پیترینکو کا کہنا ہے کہ تفیر کے علاقے میں طیارہ حادثے کی تحقیقات کے حصے کے طور پر مالیکیولر جینیاتی معائنے مکمل کر لیے گئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے نتائج کے مطابق تمام 10 ہلاک شدگان کی شناخت کی گئی ہے، وہ فلائٹ لسٹ میں بیان کردہ فہرست سے مطابقت رکھتے ہیں۔
ایمبریر پرائیویٹ جیٹ طیارے میں سوار دیگر نو افراد میں دمتری اُتکن بھی شامل تھے جو ویگنر کی کارروائیوں کا انتظام کرتے تھے اور مبیّنہ طور پر روس کی ملٹری انٹیلی جنس میں بھی خدمات انجام دیتے تھے۔
یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ بدھ کو اس طیارے کو پیش آنے والے حادثے میں کریملن ملوث ہو سکتا ہے اور یہ واقعہ ویگنر کی جانب سے ماسکو کی فوجی قیادت کے خلاف بغاوت کے ٹھیک دو ماہ بعد پیش آیا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو میں اس واقعے کوالمناک قرار دیا اور اس سے متعلق تمام افواہوں کومکمل جھوٹ قرار دیا۔
روسی حکام نے حادثے کے بعد فضائی ٹریفک کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا آغاز کیا تھاتاہم، انھوں نے ممکنہ وجوہات کے بارے میں تفصیل ظاہر نہیں کی۔