غزہ:حماس نے اسرائیلی فوج کے میجر جنرل سمیت 50سے زائد اسرائیلوں کو یرغمال،44فوجیوں سمیت 700کو ہلاک دوہزار سے زائد اسرائیلوں کو زخمی کردیا، الاقصی سیلاب کہلانے والے آپریشن میں اسرائیلی کے30 پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے جن میں اعلی شخصیات بھی شامل تھیں۔
اسرائیلی میڈیا نے غزہ کی پٹی سے حملوں کے آغاز سے تقریبا 750 اسرائیلی لاپتہ ہونے کی اطلاع بھی دی ہے جب کہ 370 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
عرب اور سی این این، بی بی سی الجزیر کی رپورٹس کے مطابق آپریشن الاقصی طوفان شدت اختیار کرگیا ہے فلسطینی مجاہدین کی اسرائیل میں پیش قدمی جاری ہے مختلف مقامات پر اسرائیلی فوج اور جنگجوؤں میں لڑائی جاری ہے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے اسرائیل پر زمین، سمندر اور فضا سے حملوں میں اب تک600 اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں جس میں فوجیوں کی تعداد 44 ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی سے حماس کے پے در پے حملوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد 700 ہو گئی ہے۔ ان حملوں میں 2ہزار سے زائد زخمی ہونے کا اعلان کیا گیا۔جب کہ اسرائیلی فوج نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر ہلاک ہونے والے فوجیوں میں سے 26 کے نام اور تصاویر کے ساتھ ایک لنک شیئر کیا ہے۔
اسرائیلی ریڈیو پر دیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں نہال بریگیڈ کا کمانڈر، تکشف بٹالین کا کمانڈر، میگلان یونٹ کا ڈپٹی کمانڈر، ایک کمپنی کمانڈر اور اندرونی محاذ کی کمان کا ایک گروپ لیڈر شامل ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل کئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے کئی اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو یرغمال بنالیا ہے۔
اب اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے حملوں کے دوران ایک میجرجنرل سمیت 50 اسرائیلی فوجی بھی یرغمالیوں میں شامل ہیں۔ حماس نے اسرائیل پر زمین، سمندر اور فضا سے حملے کئے ہیں۔
عرب میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ حماس کے جنگجو اسرائیلی فوج کے میجر جنرل نمرود الونی کو بھی یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں۔اسرائیلی فورسز کی جانب سے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
