غزہ: غزہ کی پٹی میں نو ماہ کی ایک حاملہ خاتون نے کومے کی حالت میں بچے کو جنم دیا۔
جمعے کی شب اسرائیلی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں ایک خاتون زخمی ہوگئی، جب اسے اسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اس کی موت بمباری کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ چونکہ وہ مکمل طور پر بے ہوش تھی، اس لیے انہوں نے اس پر فوری سیزرین آپریشن کیا، بعد میں یہ معلوم ہوا کہ وہ ابھی تک زندہ تھی۔
یہ نیوین ابو عودہ کی کہانی ہے، جیسا کہ غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ذقوت نے اسکائی نیوز عربیہ کو بتایا ۔
ذقوت نے وضاحت کی کہ یہ خاتون غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس گورنری کی رہائشی ہے اور اس کے گھر کو اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، جب ناصر اسپتال کے طبی عملے نے اسے نکالا تو انہوں نے اسے بے ہوش پایا جس کے جسم میں کوئی اہم نشان نہیں تھا، ان کا خیال تھا کہ وہ مر گئی ہے ۔
ڈاکٹروں نے زچہ و بچہ کی زندگی کو بچانے کے لیے اس کا فوری سیزرین آپریشن کیا، یہ آپریشن کامیاب رہا اور خاتون نے ایک صحت مند بچے کو جنم دیا ۔
ذقوت نے وضاحت کی کہ پیدائش کے عمل کے دوران ڈاکٹروں کو معلوم ہوا کہ خاتون کے جسم میں نبض ہے، اور پتہ چلا کہ وہ مکمل طور پر کومہ میں تھی، اس لیے اسے ناصر اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا تھا،بعد ازاں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس خاتون کا شوہر اسی بم دھماکے میں شہید ہوگیا تھا۔