کراچی:جماعت اسلامی کراچی کے عبوری امیر منعم ظفر خان نے پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں پولیس موبائل وین کے ذریعے اورنگی ٹاؤن کے 2نوجوانوں کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ اور تاوان وصول کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ پولیس ایک طرف شہر میں مسلح ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی روک تھام میں ناکام ہے تو دوسری طرف پولیس اہلکار ہی شہریوں کے اغواء برائے تاوان میں ملوث ہیں۔
منعم ظفر نے کہاکہ اورنگی ٹاؤن کی حالیہ واردات سے قبل بھی پولیس اہلکار اور افسران گھروں میں گھس کر اور شاہراؤں پر عوام اور تاجر وں سے ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں،یہ صورتحال اس امر کا ثبوت ہے کہ شہر میں چوری، ڈکیتی اور شہریوں سے لوٹ مار کا سلسلہ اسی لیے ختم نہیں ہورہا کہ خود محکمہ پولیس کے اہلکار ان جرائم میں ملوث ہیں۔
جماعت اسلامی کراچی کے عبوری امیر کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر ان عناصر کو تحفظ بھی فراہم کیا جاتا ہے، شہر میں لوٹ مار اور مسلح ڈکیتی کی درجنوں وارداتیں روزانہ رونما ہوتی ہیں، جرائم پیشہ عناصر اور مسلح ڈاکو دیدہ دلیری کے ساتھ اپنی کارروائیاں کرتے ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت 16سال سے برس اقتدار ہے اور وزیر اعلیٰ و صوبائی وزراء سمیت اعلیٰ پولیس حکام کے دعوؤں اور نعروں کے برعکس صورتحال مسلسل خراب ہوتی چلی جارہی ہے،گزشتہ 3سالو ں میں مسلح ڈکیتی کی وارداتوں میں 285اورحالیہ برس تقریبا ساڑھے چار ماہ کے دوران 70سے زائد شہری بشمول نوجوان اپنی جان گنوابیٹھے ہیں اور آج تک کسی بھی شہری کے ڈاکؤوں کے ہاتھوں قتل کی واردات میں ملوث عناصر اور ان کے سرپرستوں کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہ آسکی۔
