وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپریشن عزم استحکام فوج کی نہیں بلکہ حکومت کی ضرورت ہے، یہ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری لینی بھی چاہئیے ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ دہشتگردی کی حالیہ لہر سے نمٹنے کے لیے نئے جذبے اور شدت کے ساتھ آپریشن کی ضرورت ہے ،ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کی نئی لہر کے خاتمے کے لیے مجوزہ فوجی آپریشن پر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین سے مشاورت جاری رہے گی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ عزم استحکام کی پالیسی کوئی جلد بازی میں نہیں آئی ہے ،مقامی افراد کی ترقی کے لیے مختص رقم اور منصوبہ بندی میں کوتاہی کی گئی ہے، دہشت گردی کے واقعات میں گذشتہ ایک سال میں جو شدت آئی اس کے بعد نئی صف آرائی کی ضرورت تھی ۔
ان کا کہنا تھا کہ’ہم آپریشن عزم استحکام کو کامیاب بنانے کے لیے چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اور تمام سیاسی جماعتوں سے بات کی جائے اور اس کے خدوخال سے اُن کو آگاہ کریں ،اس بار آپریشن سے کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی بلکہ آپریشن انٹیلیجنس کی بنیادوں پر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمن پناہ گاہیں بناکر بیٹھے ہیں لہذا ہم اپنے دفاع کا حق رکھتے ہیں۔ دہشت گرد جہاں بھی ہوں گے، وہاں حملہ کریں گے،اگر سیاسی طاقتیں مل کر ملک کیلئے بہتری کا راستہ نکالنا چاہتی ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کو کیا اعتراض ہوگا۔
