ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کرناٹک، نجی شعبے کی ملازمتوں میں بھی کوٹا سسٹم کا بِل مسترد

بھارت کی ریاست کرناٹک میں حکومت نے ایک متنازع بِل روک لیا ہے جس کے تحت نجی شعبے کو اس بات کا پابند کیا جارہا تھا کہ وہ مینیجمنٹ کی سطح پر 50 فیصد اور نان مینیجمنٹ سطح پر 75 فیصد ملازمتیں ریاستی باشندوں کو دیں۔

نجی اداروں بالخصوص آئی ٹی فرمز نے اس بِل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ نجی شعبے کو بہتر کارکردگی کے لیے انتہائی باصلاحیت افراد کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس معاملے میں کوٹا سسٹم نہں چل سکتا۔ اگر مقامی سطح پر مطلوب اہلیت کے حامل نوجوان نہ ملیں تو ملک کے کسی بھی حصے سے تعلق رکھنے والوں کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

کرناٹک کے وزیرِاعلیٰ سِدا رمیا نے اپنی کابینہ سے مشاورت کے بعد یہ ریاستی اسمبلی میں اِس بِل پر رائے شماری رُکوادی ہے۔ ایک انٹرویو میں سِدا رمیا نے کہا کہ وہ مقامی باشندوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا چاہتے تھے لیکن اگر اِس بِل سے نجی شعبے کے اداروں کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں تو پھر اِس حوالے سے قانون کا نہ بنایا جانا بہتر ہے۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں کوٹا سسٹم ہی کے باعث انتہائی صورتِ حال پیدا ہوچکی ہے۔ بنگلہ دیشی طلبہ سرکاری ملازمتوں میں 56 فیصد کوٹا کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ خواتین اور معذوں کے لیے 6 فیصد کے علاوہ 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے خاطر پاکستانی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی اولاد کے لیے سرکاری ملازمتوں میں 30 فیصد کوٹا مختص کیے جانے پر طلبہ نے ملک گیر تحریک چلا رکھی ہے۔ تشدد کے نتیجے میں 7 طلبہ کی ہلاکت کے بعد اب ملک بھر کے کالجوں اور جامعات کو تالا لگادیا گیا ہے۔

بھارت میں بھی کوٹا سسٹم کے حوالے سے ہنگامہ آرائی ہوتی رہتی ہے کیونکہ معاشرے کے پچھڑے ہوئے طبقوں اور نچلی ذات قرار دیے جانے والے ہندوؤںے کے حالات بہتر بنانے کے لیے سرکاری ملازمتوں میں اُن کا کوٹا رکھا جاتا ہے۔ اوپن میرٹ کے اصول کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کوٹا سسٹم کے ہاتھوں ملک بھر میں انتہائی ذہین اور ماہر طلبہ کے لیے آگے بڑھنا ممکن نہیں ہو پارہا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں