ڈھاکا(مانیٹرنگ ڈیسک )بنگلادیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف ہونے والے پر تشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد بھارت نواز حکومت نے جماعت اسلامی بنگلادیش اور اس کی طلبہ تنظیم اسلامی چھاترو شبر پر پھرپابندی کا فیصلہ کرلیا۔مقامی میڈیا کے مطابق ان جماعتوں پر پابندی کا فیصلہ 14 جماعتی حکومتی اتحاد کے اجلاس میں ہوا۔بنگلادیشی وزیر قانون کے مطابق پابندی کے فیصلے کو حتمی شکل دینے کے لیے وزیر داخلہ سے مشاورت ہوگی جس کے بعد آج ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے جماعت اسلامی بنگلادیش اور اسلامی چھترو شبر پر پابندی عاید کردی جائے گی۔بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بنگلادیشی الیکشن کمیشن2018ء میں جماعت اسلامی بنگلادیش کی رجسٹریشن منسوخ کرچکا ہے۔جماعت اسلامی بنگلادیش کے رہنماؤں نے حکومتی فیصلے کو غیر قانونی، غیر آئینی اور ماورائے عدالت قدم قرار دیا ہے۔خیال رہے کہ بنگلادیش میں طلبہ نے سرکاری ملازمتوں کے کوٹا سسٹم کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ پچھلے ہفتے ہونے والے احتجاج میں 205 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے، جن میں مظاہرین، عام آدمی اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں 2 ہزار 357 افراد کو گرفتار کیاگیا۔احتجاج میں سرکاری طور پر 147 افرادکی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔علاوہ ازیں ایک ہفتے سے زاید جاری رہنے والے مظاہروں میں اموات پر حکومت کی جانب سے یوم سوگ منایا گیا، تعزیتی جلسے منعقد کیے گئے اور جگہ جگہ بینرز آویزاں کیے گئے۔لیڈی کلر کے نام سے شہرت رکھنے والی وزیرعظم حسینہ واجد نے اسپتالوں میں زخمیوں کی عیادت کی۔حکومت کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر خصوصی لال رنگ کی ڈی پیز لگائی ۔دوسری جانب مظاہرہ کرنے والی طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس اعلان کا مقصد پولیس کی جانب سے طلبہ کی ہلاکتوں سے توجہ ہٹانا ہے۔