امریکا نے اب یہ بات بالکل واضح طور پر بیان کردی ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جارحیت کے نام پر مشرقِ وسطیٰ میں کسی کو کوئی نئی جنگ شروع کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
امریکی وزیرِخارجہ لائیڈ آسٹن نے ایران کے دارالحکومت تہران میں حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کی شہادت کے بعد ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا نے اسرائیل کو بھی حماس، حزب اللہ اور حوثی ملیشیا کے خلاف زیادہ کُھل کر کچھ کرنے سے روکا ہے اور اب اِن تینوں عسکریت پسند تنظیموں کو بھی کسی حال میں کچھ ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا جس کے نتیجے میں اسرائیل کے خلاف جنگ چِھڑے۔
اسماعیل ہانیہ کہہ شہادت کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال ایک بار پھر کشیدہ ہوگئی ہے۔ حماس، حزب اللہ اور حوثی ملیشیا سمیت درجنوں عسکریت پسند اسلامی گروپوں نے اسرائیل کو سبق سکھانے کی دھمکی دی ہے۔ اسرائیل میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔ تمام ریاستی اداروں کو کسی بھی صورتِ حال کے چوکس رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلیں اور کسی حملے کی صورت میں جہاں جانا پڑے اُس محفوظ مقام کا پہلے سے تعین کرلیں۔
اسرائیلی فوج کے یونٹس بھی تیاری کی حالت میں ہیں۔ فضائی حدود بند کردی گئی ہیں۔ آنے اور جانے والی درجنوں پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ فوج کے تمام سرحدی یونٹس کو الرٹ رکھا گیا ہے۔ فضائی حملوں سے دفاع کا نظام بھی مکمل فعال ہے۔
امریکا نے کسی نئی جنگ کو روکنے کے نام پر دراصل اسرائیل کو مزید مستحکم کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات اسرائیلی فوجی دستے بھی الرٹ کردیے گئے ہیں۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی طرف سے اسرائیلی میں داخؒ ہوکر کارروائی کرنے کی دھمکی کے بعد سے امریکا اور اسرائیل دونوں ہی الرٹ ہیں۔ اِس مرحلے پر اسماعیل ہانیہ کو شہید کرنے کا مقصد اسرائیل کا مورال بلند کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ اسرائیل اس نوعیت کے اقدامات تنِ تنہا نہیں کرسکتا، اِس کے لیے امریکا اور یورپ کا اُس کی پشت پر ہونا لازم ہے۔
صورتِ حال بدلتے ہی امریکا کُھل کر سامنے آگیا ہے اور اُس نے واضح کردیا ہے کہ اسرائیل چاہے کچھ بھی کرتا پھرے، وہ اسرائیل کو کچھ نہیں کہے گا لیکن اگر کسی نے مظالم سہتے سہتے ظالم سے بدلہ لینے کا سوچا تو اُسے محض روکا نہیں جائے گا بلکہ عبرت کا نشان بنادیا جائے گا۔
