
کراچی(اسٹاف رپورٹر) کراچی کے تاجروں نے اعلان کیا ہے کہ آئی پی پیز اور کے الیکٹرک کی لوٹ مار بند نہ ہوئی تو 31اگست سے بلوں کی ادائیگی بند کر دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی ، پیٹرول ، گیس کی مہنگائی کے سبب کاروبار ٹھپ اور کارخانے بند ہو رہے ہیں ایسی صورت میں نام نہاد تاجر دوست اسکیم کے نام پر ماہانہ فی دکان 60ہزار روپے نافذ کرنے والوں کی عقل پر ماتم کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ۔ ہم تاجر دوست اسکیم کو مسترد کرتے ہیں ، حکومت نے زور زبردستی کی تو ہر بازار اور مارکیٹ میں دما دم مست قلندر ہوگا ۔ان خیالات کا اظہار آج بولٹن مارکیٹ میں روزگار بچائو تحریک کے زیر اہتمام ایک بڑے مشترکہ مظاہرے سے عتیق میر ، جمیل پراچہ ، شریف میمن ، محمود حامد ، آصف گلفام ، شیخ محمد عالم ، احسان گجر ، منہاج گلفام ،راشد خان ، محمد اسلم خان ، اسلم بھٹی ، عثمان شریف ، جاوید عبد اللہ ، سلیم ملک ، عبد اللہ یوسف زئی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔مظاہرے کی میزبانی شریف میمن نے کی ۔ کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر نے کہا کہ تاجروں سے حکومتی کھلواڑ اب نہیں چلے گا ، حکمران اپنی عیاشیاں کم کرنے کے بجائے عوام اور تاجروں پر ٹیکس پر ٹیکس لگا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ،ہم اپنے حقوق کے لیے آخری حد تک جائیں گے ۔ سندھ تاجر اتحاد کے صدر جمیل پراچہ نے کہا کہ ہم امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کو خراج ِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے عوام اور تاجروں کے حقوق کے لیے8روز سے اسلام آباد میں دھرنا دیا ہوا ہے ، یہ دھرنا تاجروں کے دل کی آواز ہے ۔ حکومت نے آئی پی پیز کی لوٹ مار بند نہ کی گئی تو ہم شہر شہر دھرنے دیں گے۔ آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹری کراچی کے صدر محمود حامد نے کہا کہ یہ جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے ، لوٹ مار کی پالیسیاں اور ملک ساتھ ساتھ نہیں چلے سکتے ، حکومت عوام سے ٹیکس چاہتی ہے تو انہیں کاروبار کے مواقع دے اور اپنی عیاشیاں ختم کرے، 220ارب روپے کا پیٹرول اور 550ارب روپے کی بجلی اشرافیہ کو مفت کیوں فراہم کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او کھارادر آج کا مظاہرہ کرنے پر شریف میمن کی ایف آئی آر کاٹنے کی دھمکیاں دے رہا ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ ایف آئی آر کاٹنی ہے تو پورے شہر کے تاجروں کی کاٹو اکیلے شریف میمن کی ایف آئی آر نہیں کاٹنے دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے روش نہ بدلی تو ملک گیر شٹر ڈائون ہڑتال کریں گے جس پر دیگر شہر کے تاجرو ں سے مشاورت جاری ہے ۔موٹر سائیکل ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر احسان گجر نے کہا کہ ہمیں احتجاج اور ہڑتال کی طرف جانے پر مجبور کیا جا رہاہے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں جینے کا راستہ دو ، لوگ گلے میں پھندے لگا کر خود کشی کر رہے ہیں ۔ ملک سے لوٹا گیا پیسہ واپس لایا جائے ، لٹیروں کو پھانسی دی جائے ، لٹیروں سے واپس لی گئی رقم سے قرض ادا نہ ہوا تو تاجر اپنا حصہ ادا کریں گے ۔ آرام باغ تاجر الائنس کے صدر آصف گلفام نے کہا کہ کے الیکٹرک معیشت دشمن ادارہ ہے ۔ حکومت اس کی سرپرستی بند کرے ، 75روپے فی یونٹ پر کوئی صنعت و تجارت نہیں ہو سکتی ۔ کراچی موبائل اینڈ الیکٹرونکس ایسوسی ایشن کے صدر مہناج گلفام نے کہا کہ حکومت کے ٹیکسوں کی بوچھاڑ نے موبائل کا کاروبار کرنے والوں کو دیوالیہ کر دیا ہے ، یہ پالیسیاں اب نہیں چلیں گی ۔ جامع الائنس کے صدر شیخ محمد ارشد نے کہا کہ تاجر کمزور نہیں ہیں ۔ ہمیں اپنے اتحاد کے بل پر آگے بڑھنا ہے ، اپنے اندر ایسا اتحاد پیدا کریں کہ سیاسی جماعتیں تاجروں کے پیچھے چلیں ۔ کلفٹن ٹریڈرز الائنس کے صدر راشد خان نے کہا کہ تاجر اب بیدار ہو چکے ہیں ، ہم اب من مانے اور ظالمانہ قانون کو تسلیم نہیں کریں گے ۔مظاہرے میں ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں اسمال ٹریڈرز صدر ٹائون کے صدر محمد ربان کے بہیمانہ قتل کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ پریڈی پولیس محمد ربان کے قاتلوں کا سراغ لگائے ۔تاجر مظاہرے میں شہر کی مارکیٹوں سے ریلیوں کی شکل میں آئے اور بھر پور جوش و خروش کا اظہار کیا ۔ نعرے لگارہے تھے ’’کے الیکٹرک مردہ باد ، آئی پی پیز کی لوٹ مار بند کرو ، فراڈ بلنگ بند کرو ،عیاشیاں بند کرو ، فراڈ معاہدے ختم کرو ، ظالمانہ ٹیکس مردہ باد ، تاجر اتحاد زندہ باد ‘‘۔