بنگلا دیش میں دارالحکومت ڈھاکا سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں سیکیورٹی کی ذمہ داری نوجوانوں نے سنبھال لی ہے۔ ڈھاکا کے گلی کوچوں میں ڈنڈوں، بھالوں اور خنجروں سے مسلح نوجوانوں کے جتھے گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
5 اگست کو وزیرِاعظم کے منصب سے شیخ حسینہ واجد کے مستعفی ہونے اور بھارت فرار ہونے کے بعد سے اب تک ڈھاکا سمیت تمام بڑے شہروں میں پولیس اہلکار ڈیوٹی پر آنے سے انکاری ہیں۔ سراج گنج کے عنایت پور پولیس اسٹیشن میں 4 اگست کو 13 پولیس اہلکاروں کو مشتعل ہجوم نے ہلاک کردیا تھا۔ تب سے اب تک ملک بھر میں پولیس اہلکار ڈیوٹی سے غائب ہیں۔ اعلیٰ حکام بار بار ہدایت کرچکے ہیں کہ اہلکار ڈیوٹی سنبھالیں مگر اُن کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کی کوئی ضمانت ہی نہیں تو وہ ڈیوٹی پر کیوں واپس آئیں۔
شدید انتشار کی حالت میں لُوٹ مار بھی ہوئی ہے۔ طلبہ تحریک کی کامیابی کے نتیجے میں بعض علاقوں میں نوجوان کچھ زیادہ ہی بپھرے ہوئے ہیں۔ وہ کسی کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔ کسی معاملے میں اگر کچھ غلط بھی ہو رہا ہو تو وہ کسی کی بات ماننے پر آمادہ نہیں ہوتے اور من مانی پر تُلے رہتے ہیں۔
ڈھاکا سمیت بیشتر بڑے اور چھوٹے شہروں میں انتظامی مشینری برائے نام رہ گئی ہے۔ بیشتر معاملات ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔ نوجوانوں کے جتھے اپنے اپنے علاقوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے رات رات بھر گلیوں میں اور سڑکوں پر گشت کرتے رہتے ہیں۔
بہت سے نوجوان ٹریفک پولیس کی وردیاں پہنے سڑکوں اور ہائی ویز پر ٹریفک کنٹرول کرتے اور چیکنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نوجوانوں نے لُوٹ مار روکنے پر بھی خاص توجہ دی ہے۔
