کوئنز لینڈ: آسٹریلیا کے شہر کوئنز لینڈ میں اجازت کے بغیر اڑائے جانے والا ہیلی کاپٹر اچانک ہوٹل کی چھت سے ٹکرا گیا جس میں پائلٹ ہلاک جبکہ ہوٹل میں آگ بھڑک اٹھی جس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق ہیلی کاپٹر ٹکرانے کے حادثے کے بعد ہوٹل سے 400سے زائدمہمانوں کا ہنگامی انخلا کیا گیا تاہم اس حادثے میں پائلٹ کے علاوہ کسی اور کی موت نہیں ہوئی۔
ہیلی کاپٹر کے ٹکرانے سے ایک جوڑا زخمی ہوا جسے طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے ۔ہیلی کاپٹر ٹوور ایجنسی نوٹیلس ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ حادثے سے چند گھنٹے قبل پائلٹ رات کو ایک پارٹی میں شریک ہوئے تھے جہاں عملے کے دوسرے افراد بھی شامل تھے۔
اس کے بعد انھوں نے ہیلی کاپٹر چرا لیا تھا۔نوٹیلس کا کہنا تھا کہ پائلٹ کے پاس نیوزی لینڈ میں تو ہیلی کاپٹر اڑانے کا لائسنس تھا تاہم انھوں نے کبھی بھی آسٹریلیا کے اوپر اڑان نہیں بھری تھی۔پائلٹ کو کمپنی کے ایک دوسرے اڈے پر گرائونڈکریو پوزیشن کے عہدے پر حال ہی میں ترقی دی گئی تھی۔اتوار کی شب وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک نجی محفل میں تھے۔ اس پارٹی میں کئی آف ڈیوٹی پائلٹس شریک تھے۔
نوٹیلس کے مطابق یہ کمپنی کی طرف سے کرائی گئی پارٹی نہیں تھی بلکہ کچھ دوستوں نے خود ہی اس کا انتظام کیا تھا،نوٹیلس کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک پائلٹ نے ہینگر سے بغیر اجازت ہیلی کاپٹر چرایا، اس کے بعد یہ ہیلی کاپٹر پیر کی صبح قریب دو بجے ہِلٹن ہوٹل سے ٹکرایا جس سے آتشزدگی ہوئی، ہلٹن کے ڈبل ٹری ہوٹل سے ہنگامی حالت میں قریب 400مہمانوں کا انخلا کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ صرف ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کی جائے وقوعہ پر موت ہوئی جبکہ ہوٹل کے دو مہمانوں (80سالہ مرد اور 70 سالہ خاتون)کو ہسپتال لے جایا گیا جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
