ایتھوپیا میں افریقہ کے سب سے بڑے ڈیم کا افتتاح، مصر اور سوڈان نے خدشات کا اظہار کردیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس منصوبے پر 5 ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے اور اس سے لاکھوں افراد کو بجلی فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ڈیم کے افتتاح کو ایتھوپیا اپنی توانائی خودکفالت کی طرف ایک اہم سنگ میل قرار دے رہا ہے۔
تاہم اس منصوبے نے خطے میں تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے۔ دریائے نیل کے ڈاؤن اسٹریم پر واقع مصر اور سوڈان کو خدشہ ہے کہ ڈیم کی وجہ سے دریائی پانی کا بہاؤ کم ہو جائے گا، جس سے ان کے زرعی اور پینے کے پانی کے ذخائر متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ ڈیم 170 میٹر (550 فٹ) بلند اور تقریباً 2 کلومیٹر لمبا ہے، جو دریائے نیل کے نیلے حصے پر سوڈان کی سرحد کے قریب واقع ہے، اس کی تعمیر 2011 میں شروع ہوئی تھی۔
4 ارب ڈالر لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ میگا اسٹرکچر 74 ارب مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے اور 5 ہزار 150 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ایتھوپیا کی موجودہ پیداوار سے دگنی ہے، یہ بجلی کی گنجائش کے لحاظ سے افریقہ کا سب سے بڑا ڈیم ہے
مصر، جو اپنی 97 فیصد پانی کی ضروریات کے لیے دریائے نیل پر انحصار کرتا ہے، عرصے سے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتا آیا ہے، صدر عبدالفتاح السیسی نے اسے اپنی آبی سلامتی کے لیے ’وجودی خطرہ‘ قرار دیا ہے۔
مصر نے ڈیم کے افتتاح کو ’یکطرفہ اقدام‘ اور ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ کہا اور اپنے عوام کے ’وجودی مفادات‘ کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا۔