ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

غزہ کے بے گھر خاندان پناہ لینے کیلیے ہزاروں ڈالر ادا کرنے پر مجبور

غزہ: اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین (UNRWA) نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری اور جنگی حالات کے باعث غزہ شہر سے محفوظ مقام تک ہجرت کرنے والے ایک ہی خاندان کو اوسطاً 3 ہزار 180 ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق ایندھن کی قلت، اقوام متحدہ کی پناہ گاہوں کے لیے سات ماہ سے جاری پابندی، عارضی رہائش کے لیے محدود اور گنجان مقامات اور دو برس سے جاری جنگ کے باعث گھریلو آمدنی کا خاتمہ  یہ سب مشکلات بے گھر خاندانوں کے لیے کمر توڑ بن چکی ہیں۔

UNRWA کی جانب سے جاری ایک انفوگرافک کے مطابق ایک خاندان کو عارضی پناہ کے لیے اوسطاً ایک ہزار ڈالر ٹیکسی کرایہ، دو ہزار ڈالر خیمے کے لیے اور 180 ڈالر زمین کے ٹکڑے کے لیے درکار ہیں، جو مجموعی طور پر 3 ہزار 180 ڈالر بنتے ہیں۔

ادارے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر امداد فراہم کرے تاکہ بے گھر خاندانوں کو بڑھتے ہوئے مالی اور انسانی دباؤ سے ریلیف مل سکے۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے نتیجے میں اب تک 65 ہزار 100 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ قحط کی وجہ سے کم از کم 440 فلسطینی، جن میں 147 بچے شامل ہیں، جاں بحق ہو چکے ہیں۔

واضح ر ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ملی بھگت سے غزہ میں بدترین ریاستی دہشت گردی جاری ہے۔ امداد کے نام پر دنیا کو گمراہ کیا جارہا ہے جبکہ عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اور مسلم حکمران صرف بیانات تک محدود ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں