ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ٹی ایل پی کے لبیک یا اقصیٰ مارچ کو روکنے کیلئے حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے، درجنوں کارکنان گرفتار

لاہور: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے فلسطین کے حق میں ہونے والے پرامن ’لبیک یا اقصیٰ مارچ‘ کو روکنے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال شروع کردیا ہے۔

 ترجمان تحریک لبیک پاکستان کے مطابق پنجاب بھر میں کارکنان کی گرفتاریاں، گھروں پر چھاپے اور مرکز جامع مسجد رحمت اللعالمین لاہور پر پولیس کا حملہ حکومت کی بوکھلاہٹ اور جبر کی انتہا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پولیس کی بھاری نفری نے آنسو گیس اور لاٹھیوں کے ساتھ تحریک لبیک کے مرکزی دفتر پر چڑھائی کی، جس کے نتیجے میں مسجد کے اطراف صورتحال کشیدہ ہوگئی اور متعدد کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ جہاں ایک طرف یہودی فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں، وہیں یہاں ان کے حمایتی مسلمانوں پر ظلم کررہے ہیں،  پرامن مارچ برائے فلسطین کو جرم بنا دیا گیا ہے، جو مذہبی اور انسانی آزادی پر سنگین حملہ ہے۔

ترجمان کاکہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان کے نائب امیر پیر سید ظہیر الحسن شاہ کی گرفتاری کے بعد پنجاب بھر میں ریاستی جبر اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے،  فلسطین کے حق میں نکالے جانے والے پرامن مارچ کو روکنے کی کوشش افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ طاقت کے زور پر حق کی آواز دبائی نہیں جا سکتی، ظلم کا ہر وار ناکام ہوگا،  اگر گرفتاریاں اور چھاپے بند نہ ہوئے تو عوامی ردِعمل کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔

تحریک لبیک کے ترجمان نے حکومت کو خبردار کیا کہ سیاسی انتقام اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے اس سلسلے کو فوری طور پر روکا جائے،  حکومت مذہبی و عوامی جذبات کو طاقت سے دبا نہیں سکتی، کارکنان کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاریوں کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں