نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو دعوی کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے “خوفزدہ” ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ پی ایم مودی نے امریکی رہنما کو “فیصلہ کرنے اور اعلان کرنے” کی اجازت دی ہے کہ ہندوستان روسی تیل نہیں خریدے گا اور وہ بار بار منع کرنے کے باوجود مبارکباد کے پیغامات بھیجتا رہتے ہیں۔
راہل گاندھی کا یہ دعویٰ ٹرمپ کے اس دعویٰ کے بعد سامنے آیا ہے کہ ان کے “دوست” پی ایم مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ہندوستان روس سے تیل خریدنا بند کر دے گا، اس اقدام کو انہوں نے یوکرین روس جنگ میں ماسکو پر دباو ¿ بڑھانے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ایکس پر کہا، پی ایم مودی ٹرمپ سے خوفزدہ ہیں۔ ٹرمپ کو یہ فیصلہ کرنے اور اعلان کرنے کی اجازت دیتے ہیں کہ ہندوستان روسی تیل نہیں خریدے گا۔
بار بار منع کرنے کے باوجود مبارکباد کے پیغامات بھیجتے رہتے ہیں، وزیر خزانہ کا دورہ امریکہ منسوخ کر دیا، شرم الشیخ کو چھوڑ دیا گیا۔ آپریشن سندور میں ان کی مخالفت نہیں کرتے۔
کانگریس کے جنرل سیکرٹری انچارج کمیونیکیشن جے رام رمیش نے بھی اس معاملے پر حکومت پر تنقید کی۔
رمیش نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، 10 مئی 2025 کو ہندوستانی وقت کے مطابق شام 5:37 بجے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سب سے پہلے یہ اعلان کیا کہ ہندوستان نے آپریشن سندور کو روک دیا ہے۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ نے 5 مختلف ممالک میں 51 بار دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آپریشن سندور کو روکنے کے لیے مداخلت کی تھی۔
اب، صدر ٹرمپ نے کل اعلان کیا ہے کہ مسٹر مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ہندوستان روس سے تیل درآمد نہیں کرے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ مسٹر مودی نے امریکاکو اہم فیصلے آئوٹ سورس کیے ہیں۔ 56 انچ کا سینہ سکڑ گیا ہے،۔