آئین میں ترمیم کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے دو تہائی ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ موجودہ صورتحال میں سینیٹ سے 64 اور قومی اسمبلی سے 224 ارکان کے ووٹ درکار ہوں گے۔
سینیٹ میں حکومتی بینچز پر پیپلزپارٹی 26 ارکان کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے، جبکہ مسلم لیگ نون کے 20، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4، ایم کیو ایم پاکستان کے 3، نیشنل پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ق کے ایک، اور 3 آزاد سینیٹرز شامل ہیں۔ تین دیگر سینیٹرز حکومت کو ووٹ دیتے ہیں، جس کے بعد حکومت کو سینیٹ میں 61 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ اپوزیشن بینچز پر کچھ آزاد ارکان شامل ہونے کے بعد یہ تعداد 65 تک پہنچ سکتی ہے۔
اپوزیشن بینچز پر پی ٹی آئی کے 14 ارکان، 6 حمایت یافتہ آزاد ارکان، جمعیت علماء اسلام پاکستان کے 7، مجلس وحدت مسلمین کے 1 اور سنی اتحاد کونسل کا 1 رکن شامل ہیں، جو ممکنہ طور پر آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اعلان کیا کہ ترمیم آج سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔