مقبوضہ بیت المقدس: غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور فلسطینیوں پر مظالم کی شدت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
تازہ واقعات میں قابض اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے ایک رہائشی علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے 2 نہتے فلسطینی بچوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا۔ عینی شاہدین کے مطابق فوجی دستے صبح سویرے علاقے میں داخل ہوئے، گھر گھر تلاشی لی گئی اور اس دوران خوف و ہراس پھیلانے کے لیے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
فلسطینی خاندانوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج دانستہ طور پر بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ خوف پھیلایا جا سکے اور عوامی مزاحمت کو کمزور کیا جائے۔
اُدھر غزہ میں بھی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی بمباری رکنے کا نام نہیں لے رہی اور آج ایک بار پھر غزہ سٹی، بیت لاہیا اور خان یونس میں فضائی حملے کیے گئے جب کہ توپ خانے سے بھی گولہ باری کی گئی۔ قابض فوج کے حملوں سے مکانات کھنڈر بن گئے۔ریسکیو ٹیمیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے زندہ افراد نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں بے مثال تباہی ہو چکی ہے اور آج بھی ایک بڑی اجتماعی قبر سے 51 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
انسانی حقوق تنظیموں نے اس کو اسرائیلی جنگی جرائم کی ایک اور کھلی مثال قرار دیا ہے۔ اُدھر خان یونس سے ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش بھی ملی ہے، جسے آج اسرائیل کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی سول ڈیفنس کے ترجمان نے بتایا کہ درجنوں خاندانوں کی لاشیں تاحال ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، تاہم محدود مشینری اور شدید تباہی کے باعث ریسکیو کارروائیاں انتہائی سست روی کا شکار ہیں۔