ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

نیشنل پیس اینڈ ایکشن کونسل کی ڈی جی آئی ایس پی آر سے اہم ملاقات، قومی بیانیے پر مکمل ہم آہنگی

راولپنڈی: جنرل ہیڈکوارٹرز میں آج نیشنل پیس اینڈ ایکشن کونسل (این پی اے سی) کے وفد نے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر سے اہم ملاقات کی، جس میں قومی سلامتی، ریاستی بیانیے کے فروغ، داخلی استحکام اور دشمن عناصر کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق ملاقات کو غیر معمولی طور پر اہم اور نتیجہ خیز قرار دیا گیا، جس میں ریاستی اداروں اور مذہبی و سماجی قیادت کے درمیان اعتماد اور عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

ملاقات کے دوران این پی اے سی کے وفد نے پاک افواج کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔ وفد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے خلاف سرگرم ریاست دشمن بیانیوں، افواہوں اور نفسیاتی جنگ کا اجتماعی طور پر مقابلہ کیا جائے گا تاکہ عوام میں شکوک و شبہات پیدا کرنے والی قوتوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

این پی اے سی کی جانب سے فتنۃ الخوارج، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان سے منسوب دہشت گردی کی سرگرمیوں کی دو ٹوک الفاظ میں مذمت کی گئی۔ وفد کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا نہ کوئی مذہبی، اخلاقی یا انسانی جواز ہے اور نہ ہی ایسے عناصر کا کسی بھی طرح دفاع کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ دین اسلام امن، رواداری اور انسانی جان کے تحفظ کا درس دیتا ہے جب کہ تشدد اور خونریزی اسلامی تعلیمات کے صریح منافی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی سلامتی کے امور پر یکسوئی، فکری ہم آہنگی اور متفقہ قومی بیانیہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتنۃ الخوارج، ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند عناصر کے تناظر میں داخلی سلامتی کے چیلنجز پر سنجیدہ اور جامع مکالمہ ناگزیر ہے اور اس حوالے سے مذہبی و سماجی قیادت کا کردار نہایت اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن کی جانب سے پھیلائی جانے والی نفسیاتی جنگ کے مقابلے میں سچائی، آگاہی اور عوامی شعور ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہیں۔

ملاقات میں کشمیر اور غزہ کے حوالے سے پاکستان کے اصولی اور دو ٹوک مؤقف کی بھی توثیق کی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں اور فلسطینی عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت پاکستان کی قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوا جا سکتا۔ این پی اے سی نے بھی اس مؤقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے اسے امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کی آواز قرار دیا۔

این پی اے سی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ منبر و محراب کے ذریعے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی، آئینی برابری اور قومی یکجہتی کے پیغام کو ملک بھر میں منظم انداز میں پھیلایا جائے گا۔

وفد نے نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری سوچ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر مکمل اتفاق کا اظہار کیا اور کہا کہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے علما، مدارس، مساجد اور تعلیمی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں