اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن کے اہم اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آ گیا ہے، جس کے تحت کمیشن نے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج بنانے کی منظوری دے دی ہے۔
جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کی کارکردگی، سروس ریکارڈ اور دیگر متعلقہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر باضابطہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں مختلف فیصلوں کی تفصیلات شامل کی گئیں۔
اعلامیے کے مطابق جن ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی ہے، ان میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور جسٹس سردار اکبر علی شامل ہیں۔ اسی طرح جسٹس سید احسن رضا، جسٹس ملک جاوید اقبال اور جسٹس محمد جواد ظفر کو بھی لاہور ہائیکورٹ کا مستقل جج مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے عدالت میں مستقل ججز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
جوڈیشل کمیشن کے اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد اور جسٹس چوہدری سلطان محمود کی مستقلی کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل کو بھی مستقل جج بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یوں مجموعی طور پر 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔
تاہم اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج راجا غضنفر علی خان کو اس مرحلے پر مستقل نہیں کیا جا سکا۔ اس کے برعکس ایڈیشنل جج طارق محمود باجوہ کو چھ ماہ کی توسیع دینے کی منظوری دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے اس اجلاس میں ایک اور قابلِ ذکر پہلو بھی سامنے آیا، جہاں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے جوڈیشل کمیشن کے دو اراکین مسلسل اجلاسوں میں غیر حاضر رہے۔