ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ڈیرہ اسماعیل خان میں امن کمیٹی کے سربراہ کے گھر خودکش دھماکا، 3 افراد جاں بحق، 7 زخمی

پشاور: خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 7 زخمی ہوگئے، جن میں خود نور عالم محسود بھی شامل ہیں۔ واقعہ قریشی موڑ کے قریب اُس وقت پیش آیا جب گھر میں شادی کی تقریب جاری تھی، جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

پولیس کے مطابق دھماکا انتہائی شدید نوعیت کا تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی،خودکش حملہ آور شادی کی تقریب کے دوران گھر میں داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کے فوراً بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔

ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ 7 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ ڈی ایس پی کے مطابق زخمیوں میں امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود بھی شامل ہیں، جنہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے مقام سے شواہد اکٹھے کرلیے گئے ہیں جبکہ واقعے کی نوعیت اور حملہ آور کی شناخت جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں، جنہوں نے جائے وقوعہ سے شواہد حاصل کیے۔ پولیس کے مطابق واقعے کو ٹارگٹڈ حملہ قرار دے کر مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جارہی ہے۔

واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی قائم کردی گئی ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ شخص کی نقل و حرکت کو روکا جاسکے۔ مقامی آبادی میں شدید خوف و اضطراب پایا جاتا ہے جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شادی کی تقریب جیسے موقع پر ہونے والے اس سنگین حملے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

دوسری جانب سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے اس خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔ مختلف رہنماؤں نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بزدلانہ حملے امن کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہیں، دہشت گرد عناصر شادی کی تقریب جیسے خوشی کے موقع کو نشانہ بنا کر نہ صرف بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ علاقے کے امن کو بھی نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

پولیس اور سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں