کراچی کی بھسم شدہ عمارت گل پلازہ کو شدت سے جاری سرچ آپریشن کے بعد تقریباً 90 فیصد تک کلیئر کر لیا گیا ہے، تاہم حکام کے مطابق ابھی بھی 10 سے 11 افراد لاپتہ ہیں جن کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ ملبے کے نیچے مزید انسانی باقیات کے امکانات ہیں اور ریسکیو ٹیمیں ہر جگہ محتاط طریقے سے تلاشی میں مصروف ہیں، سرچ آپریشن کے دوران عمارت کے مختلف حصوں سے چار ڈی وی آر بھی برآمد ہوئے ہیں، جو سانحے کی وجوہات کی تحقیقات میں اہم شواہد فراہم کر سکتے ہیں۔
ملبے کی صفائی کے دوران ڈیڑھ کلو سونا اور دکان میں موجود ایک لاکھ روپے سے زائد نقد رقم بھی برآمد ہوئی، جسے متعلقہ دکان کے مالک کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ ملبے کی صفائی اور متاثرہ افراد کے اثاثوں کی بازیابی دونوں عمل ایک ساتھ جاری ہیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ طارق نے بتایا کہ اب تک ملبے سے 71 لاشیں اور انسانی باقیات نکالی جا چکی ہیں، تاہم شدید آگ لگنے کی وجہ سے ڈی این اے کے ذریعے شناخت کا عمل پیچیدہ اور وقت طلب ہے، جاں بحق ہونے والے 71 افراد میں سے 20 کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جبکہ 13 افراد کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی ہے۔ مزید برآں، لاپتہ افراد کی فہرست میں 82 نام شامل ہیں، جن کی تلاش تاحال جاری ہے۔
واقعے نے ایک بار پھر شہر کی حفاظتی انتظامات اور تعمیراتی معیارات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں،تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔
شہری انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی ٹیموں کے کام میں تعاون کریں اور حادثے کے حوالے سے پھیلنے والی افواہوں سے گریز کریں تاکہ انصاف کے عمل کو متاثر نہ کیا جا سکے۔