بین الاقوامی سطح پر سامنے آنے والی تازہ رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کینیڈا، آسٹریلیا، امریکا اور دیگر مغربی ممالک میں عوام کے جان و مال کے لیے ایک سنجیدہ اور بڑھتا ہوا خطرہ بن چکے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی ماہرین اور معتبر غیر ملکی ذرائع کے مطابق بیرونِ ملک سرگرم بھارتی جرائم پیشہ عناصر، انسانی اسمگلنگ، بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں منظم انداز میں ملوث پائے جا رہے ہیں، جو میزبان ممالک کی داخلی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
آسٹریلوی جریدے اسپیکٹیٹر آسٹریلیا کی ایک تفصیلی رپورٹ میں بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کے اس منظم اور خطرناک نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا ہے، جس کے مطابق یہ گروہ مختلف ممالک میں خوف اور دہشت کی فضا قائم کرنے میں سرگرم ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈا کے مختلف شہروں، بالخصوص سرے اور اونٹاریو، میں بھارتی جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھی ہیں، جہاں صرف چند برسوں کے دوران بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے شہر سرے میں رواں سال کے آغاز سے اب تک درجنوں بھتہ خوری کے واقعات سامنے آ چکے ہیں جب کہ صوبہ اونٹاریو میں گزشتہ 3 برس کے دوران بھارتی گروہوں سے منسلک 1500 سے زائد بلیک میلنگ کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان واقعات کے باعث مقامی کاروباری طبقہ، بالخصوص سکھ کمیونٹی، شدید خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔
اسپیکٹیٹر آسٹریلیا کے مطابق کینیڈا میں سرگرم بدنامِ زمانہ بھارتی بشنوئی گروہ کو ان جرائم کا مرکزی کردار قرار دیا جا رہا ہے۔ سکھ تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا الزام ہے کہ یہ گروہ نہ صرف منظم جرائم میں ملوث ہے بلکہ بھارتی حکومت کی مبینہ ایما پر بیرونِ ملک خالصتان حامی کارکنوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔
کینیڈین صحافیوں اور سیکورٹی ماہرین کے مطابق رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی رپورٹس میں متعدد بار یہ خدشات سامنے آ چکے ہیں کہ بھارتی حکومت اپنے مخصوص مفادات کے لیے ان جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو استعمال کر رہی ہے، جو عالمی سفارتی اقدار اور ریاستی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بھارت واقعی ایک مستحکم اور ذمہ دار معاشی طاقت ہوتا تو اس کے شہری دنیا بھر میں جرائم، بلیک میلنگ اور منظم تشدد کی علامت نہ بنتے۔
بھارتی شہریوں کے خلاف بیرونِ ملک درج ہونے والے جرائم کی طویل فہرست اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ میزبان ممالک میں ان کی غیر منظم اور غیر قانونی سرگرمیاں ایک بڑھتا ہوا سیکورٹی خطرہ بنتی جا رہی ہیں، جس پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔