قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران نیب نے 6 کھرب روپے سے زائد کی ریکوری کی ہے۔
ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے نیب کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کوہستان اسکینڈل کی مالیت 40 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جس میں سے اب تک 6 ارب روپے کی ریکوری کی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق اس اسکینڈل میں رقوم دیواروں اور پینٹ کے ڈبوں میں چھپا کر رکھی گئی تھیں۔
ڈی جی آپریشنز نیب نے بتایا کہ کوہستان اسکینڈل میں مجموعی طور پر 26 ارب روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے ہراساں کرنے کے تاثر کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد بیوروکریسی اب آزادانہ طور پر فیصلے کر رہی ہے، جبکہ آئندہ اگر کوئی جھوٹا الزام لگائے گا تو الزام عائد کرنے والے کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ڈی جی آپریشنز کے مطابق اسی وجہ سے موصول ہونے والی شکایات پر شناخت کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بزنس مین، ارکانِ پارلیمنٹ اور بیوروکریسی کے لیے خصوصی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اور بعض شکایات متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کر دی جاتی ہیں۔
ڈی جی آپریشنز نیب عبدالمجید اولکھ نے کہا کہ محض شکایت کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارکانِ پارلیمنٹ سے متعلق شکایات کے لیے اسمبلی اسپیکرز کے ماتحت سہولت سیلز قائم کیے گئے ہیں، جہاں شفافیت کے لیے ابتدائی جواب اسپیکر کی جانب سے آتا ہے، تاہم نیب اس جواب کو حتمی ماننے کا پابند نہیں ہے۔