وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ اگر عوام بسنت کے تہوار کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے طے قوائط و ضوابط پر ہر صورت میں عمل کرنا ہوگا۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بسنت ایک خوش رنگ اور ثقافتی تہوار ہے، تاہم ماضی میں دھاتی ڈور کے استعمال کے باعث اسے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ حکومت نے محفوظ بسنت کے انعقاد کے لیے جامع اقدامات کیے ہیں، مگر چند افراد کی لاپروائی کے باعث ماضی میں کروڑوں لوگ اس تہوار کی خوشیوں سے محروم ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے موٹرسائیکلوں پر تقریباً 10 لاکھ سیفٹی راڈز نصب کیے گئے ہیں، جبکہ بسنت کے تین دنوں کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کر دیا گیا ہے۔ اس دوران میٹرو، اورنج لائن اور بسوں میں سفر بغیر کرائے کے ہوگا تاکہ شہری موٹرسائیکل کے استعمال سے گریز کریں۔
وزیر اطلاعات کے مطابق بسنت کے اعلان پر عوامی جوش و خروش حکومت کے اندازوں سے کہیں زیادہ رہا اور اب تک سوا ارب روپے کی پتنگیں اور ڈوریں فروخت ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بسنت کے موقع پر دنیا بھر سے لوگ لاہور کا رخ کر رہے ہیں، اسی لیے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ دھاتی ڈور کے استعمال پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق چھتوں کے استعمال کے لیے این او سی جاری کیے جا رہے ہیں اور ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر ذمہ داری حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی، شہریوں کو بھی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص اپنے رہنما کی تصویر پتنگ پر لگانا چاہے تو اس پر اعتراض نہیں، کیونکہ پتنگ کٹنے کے بعد وہ کسی نالی یا گٹر میں ہی جا گرے گی۔