کوئٹہ: ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ صوبے میں نوشکی کے سوا تمام علاقوں اور اہم شاہراہوں پر حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں اور سیکورٹی صورتحال بہتر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوشکی میں بھی صورتحال کو کنٹرول میں لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہونے والی ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی ترجمان شاہد رند نے صوبائی وزرا علیٰ مدد جتک، میر شعیب نوشیروانی، بخت محمد کاکڑ اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات کے ہمراہ بتایا کہ 31 جنوری کو بلوچستان میں دہشتگردوں کے متعدد حملوں کو ناکام بنایا گیا، تاہم نوشکی میں حالات قابو میں کرنے میں کچھ وقت لگا۔
شاہد رند نے بتایا کہ ان حملوں میں 36 عام شہری اور سیکورٹی فورسز کے 22 اہلکار شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سرچ اینڈ کامبنگ آپریشنز جاری ہیں، جن کے دوران 100 سے زائد مشکوک افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ، آر پی جی اور اینٹی ایئر کرافٹ گنز بھی برآمد کی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تھانوں پر حملوں میں ملوث افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ شاہد رند کے مطابق کوئٹہ میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کر دی جائے گی۔
اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ نوشکی جیل کی حالت خطرے سے باہر ہے، جبکہ صوبے کی 2 جیلوں پر حملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں سے فرار ہونے والے قیدیوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
حمزہ شفقات نے کہا کہ صوبے میں نوشکی کے سوا تمام علاقوں اور شاہراہوں پر حالات قابو میں ہیں۔ ان کے مطابق پولیو مہم بدستور جاری رہے گی اور آٹھویں جماعت اور میٹرک کے امتحانات بھی معمول کے مطابق منعقد ہوں گے۔