ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

لیبیا کے ساحل کے قریب مہاجر کشتی ڈوب گئی، 53 افراد لاپتا

طرابلس: شمال مغربی لیبیا کے ساحلی علاقے میں یورپ جانے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کو لے جانے والی ایک ربڑ کی کشتی سمندر میں الٹنے سے المناک سانحہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد کے جاں بحق یا لاپتہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں دو کم سن بچے بھی شامل ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ ساحلی شہر زوارہ کے شمال میں پیش آیا، جہاں غیر قانونی مہاجرت کے لیے روانہ ہونے والی کشتی خراب موسم اور تیز لہروں کا شکار ہو گئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کشتی 6 فروری کو سمندر میں ڈوبی، جس میں درجنوں افراد سوار تھے جو بہتر زندگی کی امید میں یورپ کا رخ کر رہے تھے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کیا، تاہم سمندر کی خراب صورتحال اور رات کے اندھیرے کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اب تک متعدد لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔ جاں بحق اور لاپتہ ہونے والوں کی حتمی تعداد کے تعین کے لیے مقامی حکام اور امدادی ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

لیبیا کا ساحلی خطہ کئی برسوں سے غیر قانونی مہاجرت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے، جہاں سے افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس خطرناک سمندری راستے کو مسلسل جان لیوا قرار دیتی آئی ہیں اور بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ ناقص کشتیوں میں سفر سینکڑوں جانیں نگل چکا ہے۔

حکام کے مطابق اس سانحے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو تلاش اور شناخت کے عمل میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر غیر قانونی مہاجرت کے المناک پہلو کو اجاگر کرتا ہے، جہاں بہتر مستقبل کی خواہش اکثر قیمتی جانوں کے ضیاع پر منتج ہو جاتی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں